تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 108
کا اعلان کردیا۔(طبـری جلد دوم ذکر الـخبر عما کان من امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ۲۲۳) پس ان کے اس اعلان کی ہی خبر خدا تعالیٰ نے وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ میں دی ہے کیونکہ نَاصِبَۃٌ کے ایک معنے افسر مقرر کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ وقت آ رہا ہے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں مکہ والے کمانڈر اور افسر مقرر کریں گے اور یہ لوگ پورا زور لگائیں گے کہ اسلام نہ پھیلے۔چنانچہ پیشگوئی کے مطابق مخالفین نے مخالفت کے جھنڈے گاڑ دیئے اور مقابلہ کے لئے اتر آئے۔پھر جن الفاظ میں مخالفین کی مخالفت کی خبر دی ہے وہ ایسے ہیں کہ ان سے مخالفت کی تفصیل اور اس کا انجام بھی معلوم ہو جاتا ہے۔چنانچہ پہلے عَامِلَۃٌ کہا اور عَامِلَۃٌ میں انفرادی طور پر مکہ والوں کے مخالفت کرنے کا ذکر تھا مگر اس کے بعد نَاصِبَۃٌ کا لفظ استعمال کیا اور نَاصِبَۃٌ میں قومی طور پر مخالفت کرنے کا ذکر ہے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب مکہ والے صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ قومی طور پر اور اجتماعی رنگ میں بھی مخالفت کریں گے اور اپنے میں سے بعض کو افسر مقرر کریں گے تاکہ ایک تنظیم کے ماتحت وہ مسلمانوں سے لڑیں اور ان کو دِق کریں۔پھر نَاصِبَۃٌ کے ایک معنے چونکہ تھکنے والی جماعت کے بھی ہیں۔گویا آیت کے اس حصہ میں مخالفت کے انجام کی طرف اشارہ کر دیا کہ اہالیانِ مکہ مخالفت میں پوری محنت صرف کریں گے مگر اس کے نتیجہ میں ان کو کوئی خوشی نہیں پہنچے گی۔محنت کریںگے لیکن نتیجہ تھکان ہی تھکان نکلے گا آرام و راحت میسر نہیں آئے گی۔تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةًۙ۰۰۵ وہ (سخت گرم اور) بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔حلّ لُغات۔حَامِیَۃٌ۔حَامِیَۃٌ : حَـمِیَ سے ہے اور حَـمِیَتِ النَّارُ کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَدَّ حَرُّھَا آگ نہایت تیزی کے ساتھ بھڑک اٹھی (اقرب) پس حَامِیَۃٌ کے معنے ہوں گے شدت سے بڑھکنے والی اور تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً کے معنے ہوں گے کہ مخالف جماعتیں بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گی۔ساری آگیں ایک قسم کی نہیں ہوتیں بعض آگیں زیادہ گرم ہوتی ہیں اور بعض کم گرم۔یہاں تک کہ بعض آگیں ایسی ہوتی ہیں کہ لوگ ننگے پاؤں صرف پاؤں کو کیچڑ لگا کر ان کے اوپر سے گذر جاتے ہیں اور انہیں کوئلوں کی گرمی محسوس نہیں ہوتی۔مگر فرماتا ہے کہ وہ آگ جس میںمخالفین داخل ہوں گے وہ نَارًا حَامِيَةً ہو گی یعنی ایسی آگ جو اپنی تیزی اور اپنی گرمی میں