تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 107

ہوئیں۔اس لحاظ سے عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ اب مخالفینِ اسلام تمہارے خلاف منصوبے کرنے والے ہیں اور ان بغضوں اور کینوں کو جن کو وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے تھے ظاہر کرنے والے ہیں۔تفسیر۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ سورۃ غاشیہ کا نزول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کے چوتھے سال کے قریب ہوا ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں کفّار مکہ کی طرف سے منظّم رنگ میں ایذاء دہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ابتداء میں تو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کو سنتے تو کہتے۔ہائے ہائے بےچارہ پاگل ہوگیا ہے (نعوذ باللہ من ذالک) اس طرح آپ کو مجنون اور پاگل کہہ کر وہ اپنے دل کا غصہ نکال لیتے تھے مگر جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا خصوصاً نوجوان طبقہ میں سے ایک بااثر حصہ آپ کی بیعت میں شامل ہو گیا جن میں حضرت عثمانؓ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ خاص طور پر قابل ذکر ہیں تو کفار میں اسلام کے خلاف سخت جوش پیدا ہو گیا۔ان کے دلوں میں اسلام کی مخالفت کا جوش پیدا کرنے والی دو چیزیں تھیں ایک غلاموں کا اسلام میں شامل ہونا۔دوسرے رؤسا میں سے بعض نوجوانوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آنا۔حضرت عثمانؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ ایسے خاندانوں میں سے تھے جو مکہ کے رؤوسا میں شمار ہوتے تھے۔جب یہ لوگ ایمان لے آئے تو وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو پاگل کہا کرتے تھے ان لوگوں نے طعنہ دینا شروع کر دیا کہ کیا یہ پاگل ہے یہ تو تمہارے گھروں میں سے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ کر لے گیا ہے اور تم اسی خیال میں مست ہو کہ یہ پاگل ہے ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے۔اسی طرح جب غلام مسلمان ہوئے اور کفار مکہ نے ان غلاموں کے منہ سے یہ باتیں سننی شروع کیں کہ بتوں کی پرستش بالکل بے ہودہ بات ہے ان میں رکھا ہی کیا ہے وہ تو کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔تو یہ باتیں ان کے لئے بالکل ناقابلِ برداشت ہو گئیں۔کیونکہ اوّل تو ان کے بتوں کو برا بھلا کہا جاتا تھا اور پھر کہنے والے وہ تھے جو ان کے غلام تھے۔یہ حالات تیسرے سال کے بعد پیدا ہونے لگ گئے تھے چنانچہ اسلام کی ترقی کو دیکھ کر انہوں نے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ اب مذاق ہو چکا۔اب ہم ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ہمارے ہاں بھی جب آپس میں مذاق ہو تو معمولی مذاق تو دوسرا شخص برداشت کرتاجاتا ہے لیکن جب بات بڑھنے لگے تو وہ کہہ دیتا ہے اب حد ہوگئی اب اس کے بعد اگر کوئی مذاق کیا تو میں تم سے لڑ پڑوں گا۔اسی طرح تیسرے سال کے بعد کفّار مکہ نے کہنا شروع کر دیا کہ ہم تو ان باتوں کو مذاق سمجھتے تھے مگر اب تو حد ہوگئی اب یہ باتیں ہمارے لئے ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے بغضوں اور شرارتوں