تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 5
بھی استعمال نہیں ہوا مگر اسی صورت میںجب اُس خبر کی بہت بڑی شان اور اہمیت ہو۔مطلب یہ ہے کہ قرآن چونکہ الفاظ کا صحیح استعمال کرتا ہے۔اس لئے جب بھی قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوگاان تینوں معنوں پر مشتمل ہوگا۔اسی بنا پر میں غیر مبایعین کے مقابلہ میں کہا کرتا ہوں کہ تم جو کہتے ہوکہ ہر وہ شخص جس پر الہام الٰہی نازل ہو اسے لغوی طور پر ہم نبی کہہ سکتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔نبی کے لغوی معنی لغوی طور پر نبوت کے معنوں میں صرف الہام کے نزول کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔بلکہ لغت کے لحاظ سے نبی وہ ہوتا ہے جس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہو اور اُس کلام میں یہ تین شرطیں پائی جاتی ہوں۔اوّل وہ ذُوْفَائِدَۃٍ ہو دوم ؔوہ ذُوْفَائِدَۃٍ عَظِیْمَۃٍ ہو۔سومؔوہ ایسا الہام ہویَحْصُلُ بِہٖ عِلْمٌ اَوْ غَلَبَۃُ ظَنٍّ اور پھر زائد بات بوجہ نبی کے صیغہ کے یہ پائی جائے گی کہ اُس پر کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوتاہو۔گویانبأ کو جب ہم نبی کے صیغہ میں تبدیل کر دیں تو اس کے معنے ہوں گے ایسا شخص جس پر کثرت سے کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اور پھر وہ کلام ایسا ہوتا ہے جو ذُوْفَائِدَۃٍ عَظیْمَۃٍ یَحْصُلُ بِہٖ عِلْمٌ اَوْ غَلَبَۃُ ظَنٍّ کا مصداق ہوتا ہے۔گویا نبی وہ ہے جو اللہ کی طرف سے کثرت کے ساتھ لوگوں کو خبر یں دیتا ہے اور ایسی خبریں دیتا ہے جو فائدہ پر مشتمل ہوتی ہیں اور نہ صر ف فائدہ پر بلکہ فائدہ عظیمہ پر مشتمل ہوتی ہیںاور یَحْصُلُ بِہٖ عِلْمٌ اُن سے زائد علم حاصل ہوتا ہے پس جب ہم کسی کو نبی اللہ کہتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ نبی اللہ وہ ہے (۱)جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےسن کر لوگوں کو کثرت سے خبریں دیتا ہے (۲) ایسی خبریں دیتا ہے جن میں فائد ہ ہوتا ہے اور فائد ہ بھی عظیم الشان ہوتا ہے اور (۳) پھر اُن سے علم زائد حاصل ہوتا ہے۔ان معنوں کے رُو سے کسی صورت میں بھی غیر مبایعین یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اس پہلو میں اُمت محمدؐیہ کا کوئی اور فرد بھی شریک ہے اور نہ درحقیقت وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان معنوں کے رُو سے کوئی غیر نبی کسی نبی کا شریک ہو سکتا ہے۔کیونکہ یہ باتیں کسی غیر نبی میں پائی ہی نہیں جاتیں۔تفسیر۔عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِکا تعلق پہلی آیت سے عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ جملہ مستانفہ بھی ہو سکتا ہے اور عَنْ عَمَّ کا بدل بھی ہو سکتا ہے۔یعنی یہ بھی اس کے معنے ہو سکتے ہیںکہ کس بارے میںسوال کر رہے ہیں۔کیا اس عظیم الشان نبأ کے متعلق جس کا آگےذکر ہوگا اور یا پھر یہ جملہ مستانفہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ پہلی آیت میں تو یہ کہا گیا تھا کہ کس بارے میں یہ لوگ آپس میں سوال کر رہے ہیں۔اب اس کا خود ہی جواب دیتا ہے کہ عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ یہ لوگ سوال کر رہے ہیں ایک عظیم الشان نبأکے متعلق۔اس دوسری آیت نے بتا دیا کہ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠