تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 6

میں جو عمَّہ تھا وہ سوال جہالت کی وجہ سے نہیں تھا یا عدم علم کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ کہنے والی ہستی جانتی تھی کہ وہ کس چیز کے بارے میں آپس میں بحث کر رہے ہیں کیونکہ وہ خود بتاتی ہے کہ اُن کاآپس میں تَسَآءُ ل نبأ عظیم کے متعلق تھا۔اس جگہ پر اللہ تعالیٰ نے ایک زائد بات بیان فرمائی ہے جو نہایت غور کے قابل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےعَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ یہ لوگ کس کے بارے میں سوال کر رہے ہیں آیا ایک عظیم الشان نبأ کے متعلق یا جملہ مستانفہ کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ لوگ سوال کر رہے ہیںایک عظیم الشان نبأ کے متعلق۔جیسا کہ لغت سے ظاہر ہے نَبَأ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اَلنَّبَأُ خَبَرٌ ذُوْفَائِدَۃٍ عَظِیْمَۃٍ اوربقول کلیات کے نبأ وہ ہے مَالَہٗ وَقْعٌ وَشَاْنٌ عَظِیْمٌ گویا عَظِیْمٌ کا لفظ خود نبأ میں شامل ہے۔مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ۔یعنی نَبَأ کی حیثیت اور شان والی جو خبریں ہیں اُن میں سے بھی یہ عظیم الشان خبر ہے گویا بڑیوں میں سے بڑی اورعظیموں میں سے عظیم ہے۔جب نَبَأ خود اپنے اندر ایک عظمت اور شان رکھتی ہے تو اُس کے ساتھ عظیم کے لفظ کا لا یا جانا بتاتا ہے کہ اس کے معنے یہی ہیںکہ بڑیوں میں سے بڑی، عظیموں میں سے عظیم اور شانداروں میں سے شاندار خبر۔اب نَبَأ کے اصل معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم اس آیت کا تفسیری طور پر ترجمہ کریں تو وہ یوں ہو گاکہ کیا یہ لوگ سوال کرتے ہیں اُس خبر کے متعلق جو شاندار خبروں میں سے بھی بڑی شاندار خبر ہے۔النَّبَاِ الْعَظِيْمِسے مراد تین امور اس جگہ نَبَأ سے مراد بعض نے قرآن کریم لیا ہے اور بعض نے بعث بعد الموت چنانچہ ابن کثیر میں ہے کہ قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں اَلنَّبَأُ الْعَظِیْمُ:اَلْبَعْثُ بَعْدَ الْمَوْتِ کہ نَبَأ عظیم سے مرادمرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ہے۔پھر ابن کثیر میں ہی لکھا ہے کہ مجاہد کہتے ہیں ھُوَالْقُرْاَنُ یعنی نبأ عظیم سے مراد قرآن ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذاٰ ) لیکن اس سے پہلی سورۃ یعنی سورۃ المرسلات میں صرف قرآن کا ہی ذکر نہیں بلکہ قرآن کے غلبہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے چنانچہ قرآن کا تو سورۃ المرسلات کی اس آخری آیت میں ذکر ہے کہفَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ (المرسلت:۵۱)۔اور غلبۂ قرآن کا اس آیت میں ذکر ہے کہ كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ(المرسلت:۴۷،۴۸)اور پھر یوم الفصل کا جو ذکر کیا گیا ہے اُس میں بھی غلبہ ٔ اسلام کی پیشگوئی ہے پس صرف قرآن کا ہی نہیں بلکہ غلبۂ اسلام کا بھی اس سورۃ میں ذکر ہے اور یہ دونوں ذکر اس سورۃ نبأ سے بھی ظاہر ہیںاور اس سے پہلی سورۃ سے بھی۔نبأ عظیم سے تین امور مراد لئے جانے کے متعلق ایک شبہ کا ازالہ اس موقع پر یہ شبہ دل میں