تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 4

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِۙ۰۰۳ اس (مذکورہ بالا یَوْمُ الْفَصْل ۱؎ والی) عظیم (الشان) خبر کے متعلق (سوال کر رہے ہیں) حل لغات۔نَبَأٌ کے معنے خبر کے ہوتے ہیں لیکن علّامہ ابوالبقاء اپنی کتاب کلیات میں لکھتے ہیں کہ اَلنَّبَأُ وَالْاِنْبَائُ لَمْ یَرِدَافِیْ الْقُراٰنِ اِلَّا لِمَا لَہٗ وَقْعٌ وَشَاْنٌ عَظِیْمٌ (بحوالہ اقرب)یعنی نَبأ اوراِنْبَاء کے الفاظ قرآن کریم میں کسی جگہ بھی سوائے ایسے امر کے جس کی بہت بڑی شان اور اہمیت ہو استعمال نہیں ہوتے۔وَقْعٌ تاثیر اور اہمیت کو کہتے ہیں۔امام راغب اپنی کتاب مفردات میں لکھتے ہیں اَلنَّبَأُ خَبَرٌذُوْفَائِدَۃٍ عَظِیْمَۃٍ یَحْصُلُ بِہٖ عِلْمٌ اَوْ غَلَبَۃُ ظَنٍّ وَّلَایُقَالُ لِلْخَبَرِ فِیْ الْاَصْلِ نَبَأٌ حَتّٰی یَتَضَمَّنَ ھٰذِہِ الْاَشْیَائَ الثَّلٰثَۃَ یعنی نبأ اس خبر کو کہتے ہیں جس میں اوّل فائد ہ ہو۔دوسرے بڑا فائد ہ ہو۔تیسرے اُس کے ذریعہ سے یا تو علم یقین حاصل ہوتا ہو یا علم غیب حاصل ہوتا ہو۔پھر وہ کہتے ہیں خبر کو کبھی اس کے حقیقی معنوں میں نبأ نہیں کہتے جب تک یہ تینوں باتیں اُس میں نہ پائی جاتی ہوں۔گویا اس طرح انہوں نے مزید زور اس بات پر دیا کہ نبأ کے یہ تین معنے ہیں اور جب تک یہ تینوں معنے کسی خبر میں نہ پائے جائیں ہم اسے نبأ نہیں کہہ سکتے سوائے اس کے کہ کوئی سرسری طور پر اس لفظ کا استعمال کر دے یا غلط طور پر استعمال کردے۔مگرچونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کسی لفظ کا غلط استعمال نہیں ہو سکتا اس لئے ابوالبقاء نے کہا ہےکہ قرآن کریم میں ان معنوں کے سوا کہیں بھی نبأ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔جب بھی قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔وَقْعٌ وَشَاْنٌ عَظِیْمٌ کے الفاظ بھی درحقیقت یہی تینوں معنے ظاہر کرتے ہیں کیونکہ وَقْعٌ کے معنے وہی ہیں جو امام راغب نے خَبَرٌذُوْفَائِدَۃٍ کے الفاظ میں بیان کئے ہیں۔اور عظیمٌ کا لفظ فَائِدَۃ عَظِیْمَۃ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور شَاْنٌ کے معنے وہی ہیں جو یَحْصُلُ بِہٖ عِلْمٌ اَوْ غَلَبَۃُ ظَنٍّ کے ہیںکیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرحمٰن :۳۰ )پس وَقْعٌ وَشَاْنٌ عَظِیْمٌ کے الفاظ میں درحقیقت وہی مضمون پایا جاتا ہے جو مفردات والے نے بیان کیا۔مفردات والے نے بتا دیاکہ نبأ کا لفظ جب بھی صحیح طور پر استعمال کیا جائے گا اُس میں یہ تین باتیں ضرور پائی جائیں گی اور ابوالبقاء نے کہہ دیا کہ اَلنَّبَأُ وَالْاِنْبَائُ لَمْ یَرِدَافِیْ الْقُراٰنِ اِلَّا لِمَا لَہٗ وَقْعٌ وَشَاْنٌ عَظِیْمٌ قرآن کریم میںنبأ اور انباء کا لفظ کہیں ۱؎ اس یوم الفصل سے مراد وہ یوم الفصل ہے جس کا ذکر سورۃ النبا سے پہلی سورۃ المرسلات میں آچکا ہے۔