تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 75
ذخیرہ خور غذا ہے جو نہ صرف اس کو فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ اس کی آئند ہ آنےوالی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے پھر تقویٰ محبت الٰہی پیدا کرنے کا بھی موجب ہے جیسے عِنَب میں سے شراب نکلتی ہے اسی طرح تقویٰ کے ذریعہ محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے جیسے شراب پی کر انسان مست ہو جاتا ہے اور اُسے کسی خیر وشر کی پروا نہیں رہتی۔نہ اسے کسی نقصان سے ڈر آتا ہے اور نہ کسی خیر کے حصول کی خواہش اُس کے دل میں رہتی ہے محض ایک مستی ہوتی ہے جو شراب کی وجہ سے اُس کے دماغ میں پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نہ کسی خوف سے کام کرتا ہے اور نہ کسی لالچ سے۔ایک رستہ ہوتا ہے جس پر وہ اس نشہ کی حالت میں چل پڑتا ہے۔اسی طرح جب کسی شخص کے دل پر محبت الٰہی غالب آجائے تو اس نشہ میں وہ ایسا چور ہو جاتا ہے کہ وہ نہ دوزخ کے ڈر کے مارے خدا سے تعلق رکھتا ہے اور نہ جنت کی لالچ اُسے نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔ڈر اور لالچ کی قسم کے تمام احساسات اُس کے دل سے مٹ جاتے ہیں اور وہ خدا سے محض خدا کی رضا کے لئے محبت کرتا ہے گویاوہ یہ نہیں چاہتا کہ میں دوزخ سے بچ جائوں وہ یہ نہیں چاہتا کہ میں جنت میں داخل ہو جائوں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے۔جنت میں حدائق و اعناب ملنے میں حکمت پس تقویٰ بھی ایک مستی پیدا کر دیتا ہے جیسے اَعْنَاب سے جو خمر تیارہوتی ہے وہ انسان کو مست بنا دیتی ہے۔حضرت جنید بغدادی ؒ سے ایک دفعہ سوال کیا گیا کہ آپ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گےتو اُسے کیا کہیں گے انہوں نے کہا کہ میں تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے یہ کہوں گا کہ خدایا مجھے نہ جنت کی خواہش ہے نہ دوزخ کا خوف ہے۔مَیں تو یہ چاہتا ہوںکہ تُو مجھے جہاں رکھنا چاہتا ہے وہاں رکھ دے۔اگر دوزخ میں ڈالنا چاہتا ہے تو دوزخ میں ڈال دے اور اگر جنت میں لے جانا چاہتا ہے تو جنت میں لے جا۔مجھے تو تیری رضا کی ضرورت ہے (تذکرۃ الاولیاء باب چہل و سوم ذکر جنید بغدادی) یہ مستی کی ہی علامت ہے نہ اچھی بات کی خواہش رہے اور نہ بُری بات کا ڈر ہے۔ایک ہی غرض سامنے رہے کہ میرا محبوب مجھ سے راضی ہو جائے۔غرض اَعْنَابًا کا ذکراس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ اَعْنَاب ہی وہ پھل ہے کہ پینے کے کام بھی آتا ہے اور میوہ کے کام بھی آتا ہے اور خشک کرکے غذا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔پس اسے خاص طو ر پر قرآ ن کریم نے مثال کے طور پر چُنا ہے یہ بتا نے کے لئے کہ ایمان کی بھی یہی مثال ہوتی ہے کہ وہ بشاشت بھی بخشتا ہے وہ لذت بھی بخشتا ہے اور وہ طاقت بھی بخشتا ہے۔اسی طرح یہ تینوں چیزیں تقویٰ میں بھی پائی جاتی ہیں کہ وہ غذا بھی ہے۔وہ ذخیرہ خور غذا بھی ہے اور وہ عشق الٰہی بھی پیدا کرتی ہے یعنی خمر والی حالت بھی اس میں پائی جاتی ہے مگر خمر تو انسان کی عقل پر پرد ہ ڈال دیتی ہے یہ وہ نشہ ہے جو عقل کو تیز کرتا ہے۔البتہ یہ مشابہت ضرورپائی جاتی ہے کہ جس طرح خمر انسان کو مست بنا دیتی