تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 74
کے لفظ کا استعمال فرمایا تو اگر اس سے وہ ساری حکومت مراد لی جائے جو مسلمانو ں کو ملنے والی تھی ا ور یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی آئندہ حکومت کا نام اس جگہ حَدِیْقۃ رکھا ہے تب اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمانوں کی حکومت نہایت منظم ہوگی اور اس کی سرحدیں مضبوط ہوں گی جیسے باغ کے اردگرد دیواریں ہوتی ہیں۔اور وہ ان دیواروں کی وجہ سے محفوظ ہوتا ہے اسی طرح مسلمانوں کی حکومت منظم ہوگی اور اس کی سرحدیں مضبوط ہوں گی۔اسی کے متعلق قرآن کریم نے دوسری جگہ ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے یَآاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمِنُوْااصْبِرُوْاوَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا (آل عمران:۲۰۱) کہ اے ایماندارو صبر سے کام لو۔اور دشمن سے بڑھ کر صبر دکھائو اور سرحدوں کی نگرانی رکھو یعنی مسلمان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرحدوں کو مضبوط رکھے اور وہاں حفاظت اور نگرانی کے لئے اپنی فوجوں کو مقرر کرے تا کہ اسلامی علاقہ محفوظ رہے اور غیر اسلامی حکومت کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ اسلامی حکومت پر حملہ کرے۔حَدَائِق کے لحاظ سے ہی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حَمیً اَلَا وَ اِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہُ کہ ہر بادشاہ کی ایک رَکھ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رَکھ اُس کے محارم ہیں۔آپ نے فرمایا جو شخص بادشاہ کی رکھ کے قریب اپنے جانور کو چراتا ہے وہ بھی غلطی کرتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اُس کا جانور با دشاہ کی رَکھ میں چلا جائے اور وہ نقصان اُٹھائے (بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرا لدینہ) پس ایک معنے اس کے یہ ہوں گے کہ مومن اپنے اعمال کی حد بندی کر تا ہےوہ حرام اورحلال میں امتیاز کرتا ہے اور چونکہ متقی کا کام یہ ہوتا ہے کہ حلال اور حرام میں تمیز کرے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کا نام جو وہ مومنوں کو دے گا حَدِیْقۃ رکھ دیا۔یعنی جس طرح اُس نے فرق کیااور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے حلال اور حرام میں امتیاز روا رکھا اسی طرح خدا مومن اور غیرمومن میں امتیاز کرے گا اور اُسے انعام کے طور پر حَدَائِق عطا فرمائے گا اوراس نسبت سے کہ سچا تقویٰ انسان کے لئے غذا کا بھی کام دیتا ہے اور پھل کا کام بھی دیتا ہے اور نشۂ محبت الٰہی بھی پیدا کرتا ہے اس کا نام اَعْنَاب رکھ دیا کیونکہ اتّقا میں یہ ساری شرطیں ہوتی ہیں۔ایک طرف وہ مومن کی روحانی غذا ہوتا ہے جس سے وہ خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔دوسرے جسے سچا تقویٰ میسر آجاتا ہے وہ آئندہ ایک لمبے زمانہ تک دنیا میں نیک تبدیلی پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے جیسے ذخیرہ خور غذا دیر تک رہتی اور انسان کے کام آتی ہے اسی طرح تقویٰ ایک لمبے زمانہ تک دنیا کے کام آتا ہے گویا ایک طرف وہ انسان کو اپنی ذات کے لئے تازہ بتازہ پھل کاکام دیتا ہے اور دوسری طرف آئندہ کے لیے بھی ذخیرہ کا کام دیتا ہے۔چنانچہ اسی بناء پر حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے صادق کو ترک کئے ہوئے اور اس کی نسل میں سے کسی کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا (زبور ۳۷ آیت ۲۵) گویااِتقا کیا ہے ایک