تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 76

ہے اسی طرح تقویٰ اور ایمان کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں مست ہو جاتا ہے۔وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ۰۰۳۴ اور ہم عمر نوجوان عورتیں۔حل لغات۔کَوَاعِب: کَوَاعِبَ کَاعِبَۃٌ کی جمع ہے اور کَاعِبَۃٌ کے معنے ہوتے ہیں اَلنَّاھِدُ جوان لڑکی۔(اقرب) اَتْرَابٌ: اَتْرَابٌ تِرْبٌ کی جمع ہے اور تِرْبٌ اس کو کہتے ہیں جو کسی کا ہم عمر ہو۔اکثر استعمال اس کا مؤنث میں ہوتا ہے۔کہتے ہیں ھَذِہٖ تِرْبُ فُلَانَۃٍ اِذَاکَانَتْ عَلٰی سِنِّھَا (اقرب)یہ فلاں عورت کی تِربْ ہے جبکہ وہ اس عور ت کی ہم عمر ہو۔پس کَوَاعِب کے معنے ہوئے۔نوجوان عورتیں۔اور اَتْرَاب کے معنے ہوئے۔ہم عمر عورتیں۔کیونکہ عربی زبا ن کے لحاظ سے اَتْرَابًا میں مرد اور عورت کا مقابلہ نہیں ہوتا یعنی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فلاں مرد کے ہم عمر عورت۔بلکہ اَتْرَاب کے معنے ہوتے ہیں آپس میں ہم عمر عورتیں یعنی اَتْرَاب میں ہم عمر ہونے کے جو معنے ہیں اُن کی نسبت عورتوں کے لحاظ سے ہے یعنی عورت عورت کی ہم عمر ہو۔مردوں اور عورتوں میں یہ نسبت نہیں۔چنانچہ تاج العروس میں سیوطی کا قول درج ہے۔’’اَلْاَتْرَابُ: اَلْاَسْنَانُ۔لَا یُقَالُ اِلَّا لِلْاِنَاثِ وُیُقَالُ لِلذُّکُوْرِ اَلْاَسْنَانُ وَالْاْقْرَانُ وَاَمَّا الِلّدَاتُ فَاِنَّہٗ یَکُوْنُ لِلذُّکُوْرِوَلْاِنَاثِ وَقَدْ اَقَرَّہُ اَئِمَّۃُاللِّسَانِ عَلٰی ذَالِکَ‘‘ (تاج) یعنی عربی زبان میں جب مردوں کی ہم عمری کا ذکر ہو تو اَقْرَان اور اَسْنَان کا ذکر کرتے ہیں۔اور جب عورتوں کے آپس میں ہم عمری کا ذکر ہو تو اَتْرَاب کہتے ہیں او ر مؤنث و مذکر دونوں کا ہو تو لِدَات۔چنانچہ تما ائمہ لغت اس بات کی تائید کرتے ہیں پس کَوَاعِبَ اَتْرَابًا کے معنے ہوئے آپس میں ہم عمر جوان عورتیں۔تفسیر۔مومنوں کو کواعب و اتراب ملنے کا مطلب اس آیت میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قوم میں کام کی حقیقی روح تبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک حد تک اُن میں خیالات کا اور جوش کا اور ہمت کاتوازن قائم ہو۔کسی قوم میں اگربعض لوگ بہت بڑے شاندار کارنامے سر انجام دینے والے ہوں اور باقی لوگ