تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 61

جاتے ہیں۔یہاں بھی رَجَاء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو دو معنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی امید اور خوف۔درحقیقت انسانی اعمال میں دو وجوہ سے ہی خرابی پیدا ہوتی ہے یا تو اس وجہ سے خرابی پیدا ہوتی کہ بد اعمال کی سزا کا اُسے کوئی ڈر نہیں ہوتا اور یا اس وجہ سے خرابی ہوتی ہے کہ نیک اعمال کی جزاء کا اُسے یقین نہیں ہوتا۔اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا یہ دونوں باتیں بیان کر دی گئی ہیں یہ بھی کہ وہ اس بات سےنہیں ڈرتے تھے کہ اُن کے اعمال کا محاسبہ ہوگا اور یہ بھی کہ وہ امید نہیں رکھتے تھے کہ اگر وہ نیکی کریں گے تو انہیں اس کا کچھ بدلہ ملے گا۔دنیوی زندگی کے متعلق ا س آیت کو سمجھا جائے تب بھی یہ دونوں معنے چسپاں ہوتے ہیں یعنی قرآن مجید اور محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے انہوں نے اس لئے تعلق پیدا نہیں کیا اور اس لئے وہ مغضوب اور مقہور بن گئے کہ اُنہیں اس امر کا ڈر نہ تھا کہ ان کو اُن کی بدیوں کی سزا ملے گی۔وہ کہتے تھے کہ ہم کیوں بدیاں چھوڑ یں ہمیں کسی کاڈر نہیں ہے۔اور پھر اس کے ساتھ ہی وہ اس امر کی بھی امید نہیں رکھتے تھے کہ انہیں نیک اعمال کا اچھا بدلہ ملے گا۔اور اس وجہ سے نماز ،روزہ اور دوسری اسلامی قیود کی طرف اُن کا دل مائل نہیں ہوتا تھا۔لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًامیں دشمنان اسلام کے اندر مایوسی پیدا ہوجانے کی طرف اشارہ اسلام کے مقابلہ کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان آیات کا یہ مطلب ہے کہ اُن کے دلوں میں سخت بُغض اور کینہ ہو گا وہ پوری کوشش کریں گے کہ اسلام مٹ جائے اور وہ کسی خطرہ کی پرواہ نہیں کریں گے مگر ساتھ ہی لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا وہ کامیابی کی امید نہیں رکھیں گے۔اُن کے دلوں میں مایوسی پیدا ہو جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ اب کفر کو فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔اور جس شخص کے اندر مایوسی پیدا ہو جائے اس کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو پاگلوں کی طرح حملہ کرتا ہے یا پھر مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًاؕ۰۰۲۹ اور ہمارے نشانات کو سختی کے ساتھ جھٹلاتے تھے۔حل لغات۔کَذَّ بُوْا: کذَّبَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور کذَّبَ الْاَمْرَ تَکْذِیبًا وَّکِذَّابًا کے معنے ہیں اَنْکَرَہٗ وَجَحَدَہٗ کس چیز کا شدت سے انکار کیا۔جھٹلایا(اقرب) پس کذَّبُوا کے معنے ہوں گے۔انہوں نے جھٹلایا۔انکار کیا۔