تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 60
حملہ کرنا شروع کر دیں گے حَمِیْمًاوَّ غَسَّاقًا والی حالت یہی ہوتی ہے کہ کبھی انسان جوش میں آکر پاگلوں کی طرح کام کرنے لگ جائے اور کبھی ہمت ہار کر بیٹھ جائے۔یہ دونوں حالتیں ایسی ہیں جو انسان کو کامیابی سے دُور رکھتی ہیں۔نہ پاگلوں کی طرح حملہ کرنے والا جیت سکتا ہے اور نہ مایوسی کی حالت میں قوت عمل سے کام نہ لینے والاکبھی کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن فرماتا ہے جب اس حالت پر اَحْقَاب گزر جائیں گے تو اس کے بعد ان کو ہوش آجائے گی اور وہ منظم طور پر مسلمانوں پر حملہ کرنا شروع کر دیں گے اُس وقت چونکہ مُسلمان بھی اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کو بڑھا چکے ہوں گے اس لئے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور دوسری طرف کفر کا منظم حملہ۔جب یہ دو چیزیں مل جائیں گی تو پھر کفّار جیت جائیں گے۔اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ۰۰۲۸ وہ یقیناً (کسی) محاسبہ کا ڈر (اپنے دلوں میں ) نہیں رکھتے تھے۔حل لغات۔لَا یَرْجُوْنَ: رَجَا سے مضارع منفی کا جمع مذکّر کا صیغہ ہے اور رَجَا الشَّیْ ئَ کے معنے ہیں اَمَّلَ بِہٖ اس کی امید رکھی۔خَافَ۔کسی چیز سے ڈرا (اقرب)پس کَانُوْالَایَرْجُوْنَ کے معنی ہوںگے (۱)وہ امید نہیں رکھتے (۲) وہ ڈرتے نہ تھے۔اَلْحِسَابُ الحساب کے معنے ہیں اَلْعَدُّ: شمار کرنا۔گننا۔(اقرب ) تفسیر۔آخرت کے لحاظ سے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ بعث بعد الموت پر چونکہ یقین نہیں تھا اس لئے وہ ایسے کام نہیںکرتے تھے جو ان کو اگلی زندگی میں فائدہ پہنچانے والے ہوتے۔اُن کےکاموں کی اصل غرض دنیوی حالات ہؤا کرتے تھے صحیح محرّک اُن کے قلب میں نہیں تھا اس لئے وہ نیکی کو نہیں پا سکتےتھے۔يَرْجُوْنَ کے دو معنی یَرْجُوْنَ کے معنے خوف کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور امید رکھنے کے بھی۔لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاکے معنی آخرت کے لحاظ سے اور آخرت کے لحاظ سے یہ دونوں معنی چسپاں ہو سکتے لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا وہ خوف نہیں کرتے تھے کہ ہمارے اعمال کی سزا ہم کو ملے گی یا وہ امید نہیں کرتے تھے کہ اگر ہم نیک اعمال کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا کوئی بدلہ ملے گا۔اس لئے رَجَاء کا لفظ یہاں استعمال کیا گیا ہے قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو ایک ہی وقت میں کئی کئی معنوں میں مستعمل ہو