تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 62

کِذَّاب: کَذَّبَ کا مصدر ہے جس کے معنے جھٹلانے کے ہوتے ہیں۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ہمارے نشانوں کو سخت جھٹلایا کرتے تھے یعنی نشانوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ایمان لانے کی طرف اُن کو کوئی توجہ نہیں تھی۔كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا کے دو معنی كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا اگر شروع زمانہ کے کافروں کے متعلق سمجھا جائے تو اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ چونکہ یہ لوگ ہماری ان پیشگوئیوں کو کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا اور قیامت آئے گی نہیں مانتے تھے اس لئے گمراہ ہو گئے۔قیامت پر یہ معنی اس طرح چسپاں ہو سکتے ہیں کہ چونکہ وہ قیامت کے منکر تھے اس لئے اُن کی یہ حالت ہوئی اور اگر کلام الٰہی یا رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مراد لئے جائیںتو پھریہ مطلب بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اُن نشانات کو نہ مانتے تھے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔اسی طرح آیات سے مراد کلام الٰہی بھی ہو سکتا ہے۔پسكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ کلام الٰہی سے اُن کی فطر ت کا جوڑ نہیں اس لئے وہ اس کا قطعی طور پر انکار کرتے ہیں۔وَ كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ۰۰۳۰ اور ہم نے (تو) ہر ایک چیز کو (پوری ) ٭ پوری طرح گن رکھا ہے۔حل لغات۔اَحْصَیْنَاہُ : اَحْصٰی سے متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے۔اور اَحْصٰی الشَّیْءَ اِحْصَاءً کے معنے ہیں عَدَّہُ کسی چیز کو گنا ہ اور شمار کیا (اقرب)پس اَحْصَیْنٰہُ کے معنے ہوں گے۔ہم نے اس کو گن لیا۔کِتَابًا: اَحْصٰی کا مفعول مطلق بھی ہو سکتا ہے اور حال بھی۔مفعول مطلق ہونے کی صورت میں اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم نے ہر چیز کو پوری طرح گن رکھا ہے۔اور حال ہونے کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اَحْصَیْنٰہُ حَالَ کَوْنِھَا کِتَابًا اَیْ مَکْتُوْبًا۔یعنی ہم نے ہر چیز کو اس حال میں گن چھوڑا ہے کہ وہ لکھی ہوئی ہے۔کیونکہ کِتَاب بمعنے مَکْتُوْب بھی آتا ہے۔کتاب کے معنے ہیں۔مَایُکْتَبُ فِیْہِ۔وہ اوراق جن میں لکھا جاتا ہے۔اَلْقَدْرُ۔قدر۔اَلْحُکْمُ۔حکم۔٭ اصل لفظی ترجمہ اس آیت کا یوں ہوگا کہ ہم نے ہر ایک شے کو گن رکھا ہے گن رکھا ہےپوری طرح۔چونکہ گن رکھا ہے کا جملہ پہلے محذوف ہے اس لئے اردو میں اس کو ادا کرنے کے لئے پوری پوری طرح گن رکھا ہے ترجمہ کیا گیا ہے۔