تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 59
اس کی پیپ دی جائے گی یا سخت بد بودار اور سڑا ہوا پانی ملے گا۔یا اتنا ٹھنڈا پانی دیا جائے گا جس سے ان کے دانت گرنے لگیں گے۔جَزَآءً وِّفَاقًاکا مطلب جَزَآءً وِّفَاقًایعنی یہ جزا ہے جو اُن کے مناسب حال ہے۔وِفَاقًا کے معنے ہوتے ہیں مُوَافِقًا لِلْاَعْمَالِ وہ جزا جو اُن کے اعمال سے مطابقت رکھتی ہے یعنی اُس دنیا میں بھی اُن کے اندر میانہ روی نہیں تھی اور چونکہ دُنیا میں میانہ روی کا وصف اُن کے اندر نہیں پایا جاتا تھا اس لئے اگلے جہان میں بھی انہیں ایسی ہی چیزیں ملیں گی جو حد درجہ گرم ہوں گی یا حد درجہ سرد ہوں گی یا چونکہ دنیا میں وہ سخت غصہ میں آجاتے تھے یا نکمے اور سُست ہو کر بیٹھ رہتے تھے۔میانہ روی کی عادت جو انسان کو کامیاب کرتی ہے ان کے اندر نہیں تھی اس لئے جہنّم کا عذاب بھی انہیں اسی صورت میں ہی ملے گا۔کہیں سخت گرم پانی اُن کو پینے کے لئے ملے گاکہیں سخت سرد پانی اُن کو پینے کے لئے ملے گا۔درمیانی پانی جو راحت بخشتا ہے انہیں جہنّم میں نظر ہی نہیں آئے گا۔اسلام اور کفر کے اخلاق میں یہی فرق ہے کہ اسلام میں میانہ روی کی تعلیم ہے لیکن اسلام کے علاوہ اور کسی مذہب میں میانہ روی کی تعلیم نہیں پائی جاتی۔یہودیت کہتی ہے ’’جان کے بدلے جان لےاور آنکھ کے بدلے آنکھ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور پائوں کے بدلے پائوں۔جلانے کے بدلے جلانا۔زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ ‘‘ (خروج باب ۲۱آیت ۲۳تا ۲۵)عیسائیت کہتی ہے ’’جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے ‘‘ (متی باب۵ آیت ۳۹)گویا ایک میں گرمی ہی گرمی چلتی چلی جاتی ہے اور دوسرے میں سردی ہی سردی چلی جاتی ہے۔پس ایسے اعمال کے بدلہ میں جزاء بھی ایسی ہوگی کسی کو گرمی ہی گرمی پہنچے گی۔لیکن اسلام اپنے تمام احکام میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ فرماتا ہے تم رحم کے موقع پر رحم کرو اور سزا کے موقع پر سزادو۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ (الشوریٰ:۴۱) یعنی بدی کی سزا اُسی حد تک دینی جائزہے جس حد تک کہ ظالم نے ظلم کیاتھا مگر جو ظلم کے مقابل پر عفو سے کام لے بشرطیکہ اس عفو سے اصلاح ہوتی ہو تو اُسے اپنے اس عفو کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور ضرور ملے گا۔قرآن مجیداور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے متعلق اگر ان آیتوں کو لیا جائے تو پھر ان سے روحانی معنی مراد ہوں گے جیسا کہ پہلے روحانی معنے کرتے چلے آئے ہیں۔یعنی اسلام کے دشمنوں کو کبھی راحت نہیں ملے گی۔اُن کے دلوں کو کبھی چین نصیب نہیں ہو گا وہ اسلام کے مقابلہ میں جب اپنی ناکامی دیکھیں گے تو اس بے چینی اور اضطراب کی حالت میںکبھی وہ اسلام کے مقابلہ میں بالکل مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے اور کبھی پاگلوں کی طرح اُٹھ کر