تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 56
يُرِيْدُ(ھود:۱۰۸) وہ اُس میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک کہ آسمان اور زمین ہیں اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ مگر جو تیرا رب چاہے یعنی تیرا رب جس کو بخشنا چاہے بخش دے اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ تیر ا رب وہ بات ضرور کرے گا جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ بخشش کر نے والا ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ اُس کی طرف سے بخشش ہو گی بھی۔(۵) اسی طرح سورۂ ھود میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَالِکَ خَلَقَہُمْ (ھود:۱۲۰) سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا وَلِذَالِکَ خَلَقَھُمْ اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے تا کہ اُن پر رحم کرے۔جب ہر مخلوق کو خدا تعالیٰ نے رحم کے لئے پیدا کیا ہے تو یہ خیال کر لینا کہ وہ کسی کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنے دے گا اس آیت کے بالکل خلاف ہے۔ابن کثیر میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت آتی ہے کہ لِلرَّحْمَۃِ خَلَقَہُمْ وَلَمْ یَخْلُقْہُم لِلْعَذَابِ (تفسیر ابن کثیر زیر ھود ۱۱۹)یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اپنی رحمت کے لئے پیدا کیا ہے عذاب کیلئے پیدا نہیں کیا۔اور یہ ایک لازمی بات ہے کہ جس چیز کے لئے کسی کو پیدا کیا گیا ہے وہ اس کو ضرور مل جانی چاہیے (۶)پھر فرماتا ہے فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (الزلزال:۸) جو شخص ایک ذرّہ بھر نیکی میں بھی حصہ لے گا اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کے ایک ذرّہ کو بھی ضائع نہیں کرے گا اور وہ ضرور اس کا انجام دیکھے گا۔یہ انجام وہ اسی طرح دیکھ سکتا ہے کہ پہلے اُسے گناہوں کی سزا دے دی جائے اور بعد میں اُسے معاف کر دیا جائے۔(۷) حدیث میں بھی آتا ہے اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی للّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِذَااَرَادَ عَبْدِیْ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً فَلَا تَکْتُبُوْھَا عَلَیْہِ حَتّٰے یَعْمَلَھَافَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوْا ھَابِمِثْلِھَاوَاِنْ تَرْکَھَا مِنْ اَجْلِیْ فَاکْتُبُوْھَا لَہٗ حَسَنَۃً وَاِذَااَرَادَ اَنْ یَّعْمَلَ حَسَنَۃً فَلَمْ یَعْمَلْھَا فَاکْتُبُوْھَا لَہٗ حَسَنَۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا لَہٗ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلَی سَبْعِ مِأتِ ضِعْفٍ (بخاری مصری جلد رابع کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ) یعنی ہر بدی کی سزا اُس کے برابر ہے اور ہر بدی جس کا خیال چھوڑ دیا جائے اس کے بدلہ میں نیکی لکھی جاتی ہے اورہر نیکی جس کا انسان خیال کرے خواہ عمل نہ کرے اس کے بدلہ میں نیکی ہے اور ہر نیکی کا بدلہ دس سے سات سوگنے تک ہے۔قرآن کریم میں بھی نیکی کا دس گنے سے زیادہ ثواب دیئے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (البقرۃ :۲۶۲)یعنی جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کے اس فعل کی حالت اُس دانہ کی حالت کی مشابہ ہے جو سات بالیں اُگائے اور ہر بال میں سو دانہ ہو اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت والا ہے اور بہت