تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 57
جاننے والا ہے۔اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ بعض نیکیوں کا بدلہ سات سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ انسان میںکچھ نیکی بھی پائی جاتی ہے اس لئے نیکیوں کا شمار اگر اس حدیث اور قرآن کریم کی آیت کے مطابق کیا جائے تو عقل اس بات کو جائز قرار نہیں دیتی کہ کوئی انسان دائمی طور پر نجات سے محروم ہو جائے۔(نیز دیکھو تفسیر کبیر جلد ۴ سورۃ ہود زیر آیت ۱۰۹) لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ۰۰۲۵اِلَّا حَمِيْمًا (وہاں ان لوگوں کی یہ حالت ہو گی) کہ وہ نہ تو اس میں کسی قسم کی ٹھنڈک (محسوس کریں گے) اور نہ کوئی پینے کی چیز وَّ غَسَّاقًاۙ۰۰۲۶جَزَآءً وِّفَاقًاؕ۰۰۲۷ چکھیں گے سوائے (تیز) گرم پانی اور (ناقابل برداشت) ٹھنڈے پانی کے ( اس طرح انہیں ان کے اعمال کے) مطابق بدلہ(دیا جائے گا)۔حل لغات۔اَلْبَرْدُ نَقِیْضُ الْحَرِّ۔بَرْد کے معنے ٹھنڈک کے ہیں اَلْبَرْدُ اَیْضًا اَلنَّوْمُ۔بَرْد کے ایک معنے نیند کے بھی ہیں چنانچہ عرب کہتے ہیں اَلْبَرْدُ یَمْنَعُ الْبَرْدَ یعنی ٹھنڈک نیند کو روک دیتی ہے(اقرب) فتح البیان میں ہے کہ حسن۔عطا اور ابن زید کے نزدیک بَرْد سے مراد راحت ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) حَمِیْمًا اَلْحَمِیْمُ اَلْمَاءُ الْحَارُّ۔حَمِیْم گرم پانی کو کہتے ہیں یہ لفظ اضداد میں سے ہے یعنی اپنے مخالف معنے بھی ادا کرتا ہے چنانچہ اس کے معنے ٹھنڈے پانی کے بھی ہیں۔نیز اَلْحَمِیْمُ کے معنے ہیں اَلْقَیْظُ۔گرمی اَلْعَرْقُ پسینہ۔(اقرب) غَسَّاق اَلْغَسَّاقُ کے معنے ہیںاَلْمُنْطِنُ الْبَارِدُ اَلشَّدِیْدُ الْبَرْدِالَّذِیْ یُحْرِقُ مِنْ بَرْدِہٖ کَاِحْرَاقِ الْحَمِیْمِ سخت ٹھنڈی بدبودار چیزجو اپنی ٹھنڈک سے ایسی ہی تکلیف دے جیسے کہ گرم پانی گرمی سے جلا دیتا ہے (لسان) مَایَقْطُرُ مِنْ جُلُوْدِ اَھْلِ النَّارِ وَصَدِیْدُھُمْ مِّنْ قَیْحٍ وَنَحْوُہٗ وہ پیپ جو دوزخیوں کے اجسام سے نکلے گی اُس کو بھی غَسَّاق کہتے ہیں۔(اقرب) وِفَاقًا: وِفَاق وَافَقَ کا مصدرہے اور وَافَقَ عَلَی الشَّیْ ئِ کے معنے ہیں ضِدُّ خَالَفَ کسی چیزکے مطابق آیا۔اَلْوَفْقُ کے معنے ہیں اَلْمُطَابَقَۃُ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ دو اشیاء کے درمیان پوری مطابقت (مفردات)پس