تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 55
کیا گیا ہے اور یہی حال کفّار کا ہوا۔ابتداء ً اسلام میں اسلامی تعلیم کے ماتحت ان پر سختی نہ کی جاتی تھی لیکن جوں جوں اسلامی تعلیم کا اثر مسلمانوں کے دلوں سے کم ہوتا گیا مسلمانوں میں سختی پیدا ہوتی گئی اور اسلامی حکومتوں کے دشمنوں پر تعذیب بڑھتی گئی۔غرض اس آیت کا جہاں تک غلبۂ اسلام سے تعلق ہے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ مسلمانوں کا غلبہ تین سو سال سے ایک ہزار سال تک رہے گا اور ایسا ہی ہوا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ درمیان میں عارضی طور پر ترکوں کی ایک رَو آئی جس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا مگر وہ بھی کچھ عرصہ کے بعد مسلمان ہو کر دب گئے اور اسلام کو ہی غلبہ حاصل رہا۔اس صورت میں یہی نہیں کہ اسلام کی ترقی اور کفر کی بربادی کی اس آیت میں خبر دی گئی ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلام کو جو غلبہ حاصل ہو گاوہ ایک ہزار سال تک چلتا چلا جائے گا۔ایک ہزار سال کے غلبہ کے بعد کفر پھر سر اٹھائے گا اور مسلمانوں کا تنزّل شروع ہو جائے گا۔چونکہ ہر مضمون کے لحاظ سے آیتوں کے معنے کئے جاتے ہیں اس لئے اسلام اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلبہ کے لحاظ سے اس کے یہی معنے ہوں گے۔لیکن جب ہم ان آیات کو عذاب دوزخ کے متعلق قرار دیں گے تو اس صورت میں ہم یہ کہیں گے کہ حُقْب سے مراد زمانہ ہے اور اَحْقَاب سے مراد بہت لمبا زمانہ ہے۔عذاب جہنم کے منقطع ہونے کے پانچ ثبوت قرآن مجید سے علاوہ ازیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کا عذاب غیر منقطع نہیں اس لئے بھی اَحْقَاب کو اس کے معنوں سے پھرانے کی اجازت نہ ہو گی۔چنانچہ فرماتا ہے (۱)اُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ (القارعۃ:۱۰) دوزخ دوزخیوں کی ماں کی طرح ہو گی جس طرح ماں کے رحم میں انسان کی تکمیل ہوتی ہے اسی طرح دوزخ میں دوزخیوں کی روحوں کی تکمیل کی جائے گی اور ظلمات ثلاثہ میں سے گزر کر آخر ایک دن وہ نئی روحانی پیدائش حاصل کر لیں گے (۲)د وسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ (اعراف :۱۵۷) میری رحمت نے ہر چیز کو ڈھانپا ہوا ہے۔جب اللہ کی رحمت نے ہر چیز کو ڈھانپا ہؤا ہے تو دوزخیوں کو بھی اُسے اپنی رحمت سے ڈھانپنا چاہیے اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آخر انسان نجات پا جائے گا (۳) تیسرے فرماتا ہے رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلُّ شَیْ ئٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا (المومن:۸) اے ہمارے رب ہر چیز کا تو نے رحمت اور علم سے احاطہ کیا ہوا ہے۔اگر اس کی آیت کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی چیز بھی مخلوق میں سے ایسی ہے جس کا خدا کو علم نہیں تو یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی چیز ایسی ہے جس کو خدا کی رحمت ڈھانپ نہیں لے گی۔(۴) چوتھے فرماتا ہے خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا