تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 54

اسّی سال کا حُقْب مانا جائے تو چونکہ جمع قلّت تین سے دس تک ہوتی ہے تین سے اسّی کو ضرب دی جائے تو دو سو چالیس اور دس سے ضرب دی جائے تو آٹھ سو سال کا زمانہ بنتا ہے اور سو سال کا حُقْب مانا جائے توتین سوسے ہزار سال تک کا زمانہ ہوتا ہے)اگر کہو کہ اس طرح دو مُدتیں بتانے میں تو شک پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں شک نہیں ہوتا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس حد تک کلام میں ابہام کا ہونا کسی نئے فائدہ کو پیدا کرتا ہے اُسی حد تک خدا تعالیٰ کے کلام میں ابہام ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔اس جگہ تین صدی سے دس صدی تک اسلام کے غلبہ کی خبر دینے میں دو فوائد تھے اس لئے یہ ابہام قبیح نہیں بلکہ حسن اور مفید ہے۔اور وہ دو فائدے یہ تھے (۱)کہ دو سو چالیس سال یا تین صدیوں تک اسلام کا غلبہ نہایت مکمل اور اعلیٰ تھا یعنی اندرونی اتحاد اور بیرونی دشمن کی کمزوری دونوں باتیں پائی جاتی تھیں اور اسی عرصہ میں دشمن مکمل طور پرحسد کی آگ میں جل رہا تھا۔کیونکہ نہ مسلمانوں کی کمزوری اُسے اپنی ترقی کی امید دلاتی تھی نہ اپنی طاقت کوئی امید کی صورت پیدا کرتی تھی۔اس میں شک نہیں کہ سوسال کے بعد مسلمانوں میں ایک اختلاف رونما ہوا تھا۔سپین اور بغداد الگ ہوئے مگر دو سو ستّر سال تک یہ اختلاف ایسا نمایاں نہیں ہوا کہ اس کا اثر اسلام کی ترقی پر پڑتا۔اس کے بعد دو سو چالیس یا تین سو سال سے آٹھ سو یا ہزار سال تک کا زمانہ وہ ہے کہ اس میں ایک طرف مسیحیت کو طاقت ملنی شروع ہوئی دوسری طرف مسلمانوں میں کمزوری نمایاں طور پر پیدا ہونی شروع ہوئی۔مگر مسیحیوں کی بیداری اور مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ تھی کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے غلبہ کو نقصان پہنچے۔خصوصًا اسی زمانہ کا متمدن علاقہ یعنے ایشیا اور شمالی افریقہ پوری طرح مسلمانوں کے تسلّط میں رہا۔پسلّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا کی پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور اِن دونوں زمانوں کے لحاظ سے اَحْقَاب کا لفظ جو مُبہم عدد پر دلالت کرتا ہے استعمال کیا گیا ہے۔اَحْقَاب کی ابتدائی مدّت مکمل غلبہ پر دلالت کرتی ہے اور اس کی انتہائی مدّت اس غلبہ پر دلالت کرتی ہے جس میں کسی قدر ضعف کے آثار ظاہر ہونے لگ گئے تھے مگر غلبہ پھر بھی تھا۔اس کے علاوہ اس ابہام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ پہلی تین صدیوں اور آخری سات صدیوں کے غلبہ میں ایک اور امتیاز بھی تھا۔پہلی صدیوں میں اسلامی حکام پر کم وبیش عمل ہوتا تھااور کفّار سے حسن سلوک کا خیال رکھا جاتا تھا مگر تین سو سال کے بعد ملوکیّت نے زور پکڑلیا اور کفّار سے نسبتًا سختی شروع ہو گئی جو غیر مذاہب والوں کے سلوک سے تو بہتر تھی مگر اسلامی معیار کے مطابق نہ تھی اس وجہ سے بھی ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے دو قسم کے سلوکوں کے الگ الگ زمانوں پر دلالت ہو یعنی تین سو اور ہزار سال کے زمانہ پر۔ان معنوں کے رُو سے فَلَنْ نَّزیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا کی آیت بھی خوب حل ہوتی ہے کیونکہ اس آیت میں زمانہ کے ساتھ ساتھ عذاب کی زیادتی کی طرف اشارہ