تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 53
سے سُن کر نقل کر دیئے ہیںاور اگر قَالَ سے مراد حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہیں تب بھی مِمَّا تَعُدُّوْنَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ ان الفاظ کے ذریعہ ایک ہزار سال کا ایک دن ہونے کی تردید کرنا چاہتے ہیں۔پس اگر یہ قول رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کا ہو تب بھی وہ معنے غلط ثابت ہوتے ہیں اور اگر یہ قول حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا ہو تب بھی یہ اُن معنوں کے غلط ہونے کی دلیل ہو گی کیونکہ ایک جلیل القدر صحابی ان معنوں کی تردید کر رہا ہے۔تیسرا قرینہ اِن معنوں کے غلط ہونے کا حضرت علیؓ کی وہ روایت ہے جو سالم بن ابی الجعد سے منقول ہے اُس میں حضرت علیؓ ہلال الھجری سے پوچھتے ہیں کہ تم حُقْب کے کیا معنے کرتے ہوجس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حُقب کے کوئی خاص معنے مروی نہیں تھے اگر کوئی خاص معنےمروی ہوتے تو حضرت علیؓ ہلال الھجری کو وہ معنے بتاتے نہ یہ کہ ہلال الھجری سے اس لفظ کے معنے پوچھتے پس ان تمام استدلالات اور روایتوں سے یہ معلوم ہوا کہ اس جگہ دوزخ میں سے دوزخیوں کے نکلنے کا جواز بلکہ اُس کی خبر پائی جاتی ہے گو یہ بھی ضرور ہے کہ دوزخ میں رہنے کا ایک لمبا عرصہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔اگراَحْقَاب سے مراد دس اَحْقَاب لئے جائیں اور حقب کے معنی اسّی سال کےلئے جائیں تب بھی آٹھ سو سال بن جاتے ہیں۔یہ زمانہ بھی کوئی چھوٹا نہیں کیونکہ عذاب کی ایک گھڑی بھی بہت بڑی ہوتی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے حُقُب کے معنے ایک لمبے زمانہ کے بھی ہوتے ہیں اور صدی کے بھی ہوتے ہیں۔اگر صدی کے معنے لئے جائیں تو ایک ہزار سال کا زمانہ بن جاتا ہے اوراگر حُقْب سے مُراد لمبا زمانہ لیا جائے تو اَحْقَاب سے مراد دس لمبے زمانے ہوں گے۔اس صورت میں یہ عذاب بہت لمبا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج:۴۸ ) کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کا ایک زمانہ ہزار برس کا ہوتا ہے۔اِس صورت میں اَحْقَاب سے مراد دس ہزار سال بن جائیںگے لیکن بہرحال کوئی معنے ہوں دوزخ کے عذاب کا غیر منتہی ہونا کہیں سے ثابت نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور جگہ پچاس ہزار سال کا بھی دن قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ (المعارج :۵ ) اگر ایک حُقْب کو پچاس ہزار سال کا قرار دو تب بھی جہنم کا عذاب محدود ہی رہے گا غیر محدود ثابت نہیں ہو سکتا۔لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاکے الفاظ میں اسلام کے دشمنوں کے مغلوب ہونے کے زمانہ کی طرف اشارہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے دشمنوں کے دنیوی عذاب کے معنے کرنے کی صورت میں اس آیت میںیہ پیشگوئی نکلتی ہے کہ اسلام کے دشمن دو سو چالیس یا تین سو سے لے کر آٹھ سو یا ہزار سال تک مغلوب رہیں گے