تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 50

عرصہ۔وَیُقَالُ اَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ اور بعض نے کہا ہےکہ اسّی سا ل سے زیادہ عرصہ پربھی حُقْبٌ کا لفظ بولیں گے۔اَلدَّھْرُ۔زمانہ۔اَلسَّنَۃُ وَقِیْلَ السِّنُوْنَ مطلق ایک سال کے عرصہ کےلئے بھی عربی میںلفظ حُقْب استعمال ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کئی سال کا عرصہ حُقْب کہلاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔لَابِثِیْنَ طَاغِیْنکی ضمیر کا حال ہے یعنی طاغیوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ جہنم میں سالوں یا زمانوں یا صدیوں رہیں گے۔اُخروی لحاظ سے تو بعد میں بحث کی جائے گی دنیوی لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں جب اسلام کوغلبہ حاصل ہوا تو وہ صدیوں تک ہی رہا۔بعض قومیں دنیا میں فوراً پھیل جاتی ہیں لیکن اس کے بعد جلدی ہی مٹ جاتی ہیں۔مگر مسلمانوں کا صدیوں تک غلبہ رہا۔چنانچہ مسلمان قریباًسات سو سال تک غالب رہے اُن میں کمزوری بے شک چوتھی صدی میں ہی پیدا ہونی شروع ہو گئی تھی مگر مختلف صورتوں میں اُن کا غلبہ سات سو سال تک رہا ہے بلکہ وہ زمانہ جس میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی شخص اُٹھ نہیں سکتا تھا اور کسی کوجرأ ت نہیں ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے سامنے کھڑا ہو سکے اُس کو بھی شامل کر کے یہ ایک ہز ار سا ل کا عرصہ بن جاتا ہے۔اب قریباً ساڑھے تین سو سال سے مسلمانوں کے مقابلہ میں غیر اقوام کھڑا ہونے کی جرأ ت ہوئی ہے اور انہوں نے سمجھا ہے کہ ہم بھی مسلمانوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔یعنی سترھویں صدی کے شروع سے مسلمان ایسے گرنے شروع ہوئے کہ دشمن اُن کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا لیکن اس سے پہلے ایک ہزار سال کے لمبے عرصہ میں کسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے اور یہ زمانہ دنیوی لحاظ سے گویادشمنان اسلام کے لئے دوزخِ حسد میں جلنے کا زمانہ تھا۔احقاب کے معنے مفسرین کے نزدیک اَحْقَاب حُقُبٌ کی جمع ہے اس کے لغوی معنے حل لغات میں لکھے جا چکے ہیں اب اس کے تفسیری معنے لکھے جاتے ہیں۔ابن جریر حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں( عن سالم بن ابی الجہد) کہ حضرت علی ؓنے ہلال الہجری سے کہا کہ حُقْب کے معنے تم کیا کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ حُقْب کے معنے ہیںاسّی سال۔ہر سال بارہ مہینے کا۔ہر مہینہ تیس دن کااور ہر دن ایک ہزار سال کا۔گویا یہ دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سا ل ہوئے۔ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے۔کہ حُقْب کے معنے ہیںچالیس سال جس کا ہر دن ہزار سال کا ہے گویا ایک کروڑ چوالیس لاکھ سال۔اِسی قسم کی روایت ابن ابی حاتم نے ابن عباس سعید بن جبیر اور کئی تابعین سے بھی نقل کی ہے مگر حُقْب کو ستّر سال قرار دیا ہے( جملہ روایات منقول از ابن کثیر ہیں)گویا ان روایات کے مطابق ایک کروڑ چوالیس لاکھ یا دو کروـڑ اٹھاسی لاکھ یا دو کروڑ ساٹھ لاکھ سال کو اتنے عدد سے ضرب دی جائے گی جتنے عدداَحْقَاب کی جمع سے مراد