تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 49

شروع ہو جاتا ہے اِسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب زیارۃ المرأۃزوجہا فی اعتکافہٖ )کہ شیطان انسان کے مجری الدم میں چلتا ہے۔گویا شیطانی تحریکیں دنیا میں اس قدر ہوتی ہیںکہ انسان اگر ذرا بھی غافل ہوتو وہ نفس پر غالب آجاتی ہیں۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ لِلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا یعنی یہ سرکشوںکے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہےاِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ( النّحل:۱۰۰،۱۰۱) کہ شیطان کو مومنوں پر اور خدا تعالیٰ پر توکل رکھنے والوں پرغلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔اُس کا غلبہ اُنہی لوگوں پر ہوتا ہے جو خودشیطان سے دوستی رکھتے ہیںاور اسکی محبت کا دم بھرتے اور شرک کرتے ہیں۔لِلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیاہے گویا اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًاکے مضمون میں وہ حدیث آگئی جس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے یہ فرمایا ہے کہ شیطان انسان کے مَجْرَی الدَّم میں چلتا ہے اور لِلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا نے بتا دیا ہے کہ گو جہنّم کا حملہ مومن و کافر سب پر ہوتا ہے کسی پر کسی رنگ میں اور کسی پر کسی رنگ میں۔لیکن جہنّم ٹھکانہ کے طور پر صرف طاغین کے لئے ہے۔خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے جہنم پر سے گزرنا ضروری ہے دوسری آیات سے بھی اس مضمون کی تصدیق ہوتی ہے کہ شیطان کو کفّار پر ہی غلبہ ملتا ہے مومنوں پر اُسے غلبہ حاصل نہی ہوتا۔غرض جہنّم کو راستہ قرار دیا جائے یا گھات دونوں صورتوں میں اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے جہنّم بھی ایک ضروری شے ہے۔جب تک انسان اپنے لئے جہنم یعنی تکلیف کا راستہ قبول نہ کرے خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔اور اگر گنہ کر چکا ہو تو پھر بطور سزا کے اس تکلیف کے راستہ پر ایک عرصہ تک چلنا پڑتا ہے خواہ اسی دنیا میں یا اگلے جہان میں۔اس کے بعد لقاء الٰہی نصیب ہوتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔لِلطّٰغِیْنَ مَاٰبًا کا حال ہے یعنی اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا وَمَاٰبًا حَالَ کَوْنِھَا لِلطّٰغِیْنَ یا یہ جملہ مِرْصَاد کی صفت بھی ہو سکتا ہے۔لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ۰۰۲۴ در آنحالیکہ وہ برسوں اس میں رہتے چلے جائیں گے۔حل لغات۔اَحْقَابًا اَحْقَاب حُقْبٌ کی جمع ہے اور حُقْبٌ کے معنے ہیں ثَمَانُوْنَ سَنَۃً اسّی سال کا