تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 51
لئے جائیں گے مگر یہ مقدار خواہ کچھ بھی ہو۔بیس کروڑ ہو۔چالیس کروڑ ہو یا ایک ارب ہو۔بہرحال یہ ایک معیّن عدد ہے اور ان روایات سے اتنا ضرور ثابت ہو گیا کہ دوزخ کا عذاب محدود ہے اور وہ آخر ایک دن ختم ہو جائے گا۔چنانچہ یہ احساس مفسّرین کے دلوں میں بھی پیدا ہوا ہے اور اسی وجہ سے مقاتل ابن حیان کہتے ہیں کہ یہ آیت فَذُوْقُوْافَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا کی آیت سے منسوخ ہے جو اسی رکوع کے آخر میں آتی ہے۔حالانکہ مفسّرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ساری آیتیں اکٹھی نازل ہوئی تھیں یعنی ا س سورۃ کا دو ٹکڑوں میں اترنا ثابت نہیں پس یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اکٹھی نازل ہوئیںاور پھر ان میں سے ایک آیت نے دوسری آیت کو منسوخ کر دیا۔خالد بن معدان بھی کہتے ہیں (عن ابی جریر بحوالہ ابن کثیر زیر آیت ھذا ) کہ یہ منسوخ ہے۔ان کی روایات لکھ کر ابن جریر کہتے ہیں کہ شاید یہ عبارتلَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا سے متعلق ہے یعنی لٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًا سے مراد محض دوزخ میں رہنا نہیں بلکہ اس قسم کا رہنا ہے جس کے متعلق اگلی آیت میں لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا آیا ہے اور مراد یہ ہے کہ دوزخی دوزخ میں صدیوں ایسی حالت میں رہیں گے کہ نہ انہیں کوئی راحت ملے گی اور نہ پینے کو کچھ ملے گااس کے بعد بھی وہ رہیں گے تو دوزخ میں ہی مگر عذاب کی نوعیت بدل دی جائے گی پھر وہ کہتے ہیں وَالْاَصَحُّ اَنَّھَا لَا انْقِضَائَ لَھَا یعنی سچی بات تو یہ ہے کہ دوزخ کبھی مٹ ہی نہیں سکتا۔لفظ احقاب سے دوزخ کے عذاب کے محدود ہونے کا احساس مفسرین کو پھر ابن جریر نے سالم سے اور انہوں نے حسن بصری سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اَمَّا الْاَحْقَابُ فَلَیْسَ لَھَا عِدَّۃٌ اِلَّا الْخُلُوْدُ فِیْ النَّارِ (جامع البیان فی تفسیر القرآن جزء الثلا ثون زیر آیت ھذا) یعنی اَحْقَاب جمع کا لفظ خدا تعالیٰ نے بولا ہے اس کی گنتی بیان نہیں کی اس لئے اَحْقَاب کی گنتی غیرمحدود ہے اور اس سے مراد دوزخیوں کا ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ہر اک کے دل میں خیال پیداہوا ہے کہ اس آیت کے ظاہری معنے عذاب جہنم کے ختم ہونے پر دلالت کرتے ہیں لیکن پھر ان معنوں کی اپنے عقیدہ کے مطابق تاویل کرنے کی کوشش کی ہے اور یا تو اس آیت کو لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًا سے متعلق بتایا ہے اور یا اَحْقَاب کی جمع کو اَن گنت جمع قرار دے دیاہے۔جہاں تک اَحْقَاب کی جمع کا سوال ہے یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اَحْقَاب اوزانِ جمع قلّت میں سے ہے یعنی ان اوزان میں سے ہے جن کے معنے تین سے دس تک کے ہوتے ہیں اور گو ضروری نہیں کہ ہر جمع قلّت کے لفظ سے قلّت ہی مراد لی جائے مگر بہرحال وضع لفظ کو اہمیت ضرور دی جائے گی اور جس غرض کے لئے لغت نے لفظ مقرر کیا ہو اُس سے بدلنے کے لئے کوئی قرینہ ضرور ہونا چاہیے۔بغیر کسی قرینہ کی موجودگی کے اُس کے دوسرے معنی کرنے جائز