تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 535

میں شراب قطعی طور پر حرام نہیں تھی اِس لئے اُن اُمّتوں میں جن لوگوں نے شراب استعمال کی تھی انہوں نے عملِ غیر صالح نہیں کیا تھا۔بلکہ اُس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے وہ عملِ صالح ہی تھا۔پس ایمان لانے اور عملِ صالح کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کو جنّات ملیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔جس طرح کفار کے متعلق ذکر کیا گیا تھا کہ اُ ن کو دو قسم کے عذاب دئیے جائیں گے اسی طرح یہاں مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اُن کو دو قسم کے انعامات دئیے جائیںگے۔اوّلؔ باغات ملیں گے جو اوپر سے سایہ کرنے والی چیز ہیں۔دومؔ۔اُن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔گویا اوپر سے بھی ٹھنڈک ہو گی اور نیچے سے بھی ٹھنڈک ہوگی۔ظاہر میں بھی راحت ہوگی اور باطن میں بھی راحت ہو گی۔لوگوں میں بھی عزت ہو گی اور خدا کے حضور بھی عزت ہو گی۔جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُکے دو معنی لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ کے دومعنے ہیں۔اوّلؔ یہ کہ باغوں کا سایہ ایسا ہو گا جو کِسی جگہ سے ٹوٹے گا نہیں۔اُن کی شاخیں آپس میں ملتی چلی جائیں گی۔دو درختوں میں ایسا فاصلہ نہیں ہو گا کہ سایہ الگ الگ ہو جائے بلکہ اُس سائے کا ایک سلسلہ ہو گا جس میں کوئی انقطاع واقع نہیں ہو گا۔اسی طرح ان کے نیچے جو نہریں بہتی ہوں گی ان کے کسی حصّہ پر بھی دُھوپ نہیں پڑے گی بلکہ سایہ کے مسلسل ہونے کی وجہ سے وہ نہریں بھی اوّل سے آخر تک سایہ کے نیچے ہوں گی۔گویا رحمت کے کمال کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔دوسرےؔ لَھُمْ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ باغات ا ن کی ملکیّت ہوں گے اور وہ نہریں اُن باغات سے وابستہ ہوں گی۔یوں تو سرگودھا اور لائلپور وغیرہ میںبھی نہریں ہیں مگر وہ مالکانِ اراضی کی نہیں بلکہ گورنمنٹ کی ہیں۔لیکن وہاں جو نہریں ملیں گی وہ جنت کے ساتھ ہوں گی۔مِنْ تَحْتِھَا کا یہی مطلب ہے کہ اِس جنت کی نعمتوں کے ضمن میں یہ نہریں ہوں گی۔یعنی جس کے باغات ہوں گے اُسی کی نہریں ہو ں گی۔اس لئے ایک معنے تو یہ ہیں کہ اُس جنّت کی تمام نعمتیں مالک کے اپنے اختیار میں ہوں گی۔دوسرے ؔ یہ کہ وہ بڑی وسیع جنّت ہو گی کیونکہ نہر دو دچار گھمائوں میں نہیں چلتی بلکہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ بلکہ دو دو ہزار میل تک نہریں چلتی چلی جاتی ہیں۔پس مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ کہہ کر بتا دیا کہ جنّت کا بدلہ بڑا وسیع ہو گا۔غرض اِن آیات میں ایک طرف تو اِس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جنّتیوں کو ظاہری نعمت بھی ملے گی اور قلبی نعمت بھی ملے گی۔دوسرےؔ یہ بتایا کہ اُن کی ترقی کے جو سامان ہوں گے وہ اُن کے قبضہ اور اختیار میں ہوں گے۔تیسرےؔ یہ کہ وہ سامان نہایت وسیع ہوں گے۔