تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 536

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌؕ۰۰۱۳ یقیناً تیرے رب کی گرفت سخت ہوا کرتی ہے۔حَلّ لُغَات۔بَطَشٌ بَطَشَ بِہٖ بَطْشًا کے معنے ہوتے ہیں اَخَذَہٗ بِالْعَفْفِ۔اِس کو سختی سے گرفت کی۔نیز اس کے معنے ہیں تَنَاوَلَہٗ بِالشِّدَّۃِ عِنْدَ الصَّوْلَۃِ حملہ کرتے وقت سختی سے اُسےپکڑا۔اَخَذَ اَخْذًا شَدِیْدًا فِیْ کُلِّ شَیْءٍ۔کسی چیز کو سختی سے پکڑا (اقرب) پس اَلْبَطْشُ کے معنے ہوں گے۔سختی سے گرفت کرنا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔مومنوں کو دُکھ تودئیے جائیں گے مگر خدا کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی الہام ہے کہ وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ (تذکرۃ الہام ۲۱ اگست ۱۹۰۶ صفحہ ۶۱۱،الحکم ۲۴؍ اگست ۱۹۰۶؁ صفحہ ۱)یعنی جب تم گرفت کرو گے تو سختی سے کرو گے۔پس بے شک وہ مومنوں کوبڑا دُکھ دیں گے۔مگر یاد رکھیں خدا کی گرفت بھی بڑی سخت ہے۔اِنَّهٗ هُوَ يُبْدِئُ وَ يُعِيْدُۚ۰۰۱۴ (کیونکہ) وہ وہی تو ہے (جو عذاب دینا) شروع کرتا ہے اور پھر اسےبار بار چکر دیتا ہے۔تفسیر۔يُبْدِئُ وَ يُعِيْدُ کا مطلب خدا پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے۔اور دوبارہ بھی وہی لَوٹاتا ہے۔مطلب یہ کہ خدا ہی ہے جو اِس دنیا میں بھی اُن کو عذاب دے گااور آخرت میں بھی ان کو عذاب دے گا۔گویا يُبْدِئُ وَ يُعِيْدُ کے یہ معنے ہیں کہ یُبْدِیُٔ الْعَذَابَ فِی الدُّنْیَا وُیُعِیْدُھَا فِی الْاٰخِرَۃِ۔وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ۰۰۱۵ اور (اس کے ساتھ ہی) وہ بے انتہاء بخشنے والا اور بے انتہا ءمحبت کرنے والا بھی ہے۔تفسیر۔غفور اور ودود دو صفات اکٹھی لا کر عیسائیت کی تردید اور وہ بہت بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے۔یہاں چونکہ عیسائیت کا ذکر ہے اور عیسائی خدا کو بخشنے والا قرار نہیں دیتے لیکن خدا کو محبت کرنے والا وجود ضرور قرار دیتے ہیں۔اس لئے خدا نے غفور اور ودُود دونوں الفاظ کو اس جگہ اکٹھا کر دیا ہے۔کہ یہ