تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 533

اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو عذاب میں مبتلا کیا پھر (اپنے فعل سے) توبہ بھی نہ کی اُنہیں فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِؕ۰۰۱۱ یقیناً جہنّم کا عذاب ملے گا اور (اِس دُنیا میں بھی) اُنہیں (دل کو) جلا دینے والا عذاب ملے گا۔حَلّ لُغَات۔فَتَنُوْا۔فَتَنُوْا فَتَنَ سے جمع کا صیغہ ہے۔اور فَتَنَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں۔اَحْرَقَہٗ۔اُس کو جلا دیا (اقرب) پس اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ کے معنے ہوئے وہ لوگ جنہوں نے مومنوں کو آگ میں جلایا۔تفسیر۔الٰہی جماعتوں کو دکھ دینے کا نتیجہ چونکہ کفار نے مومنوں کے لئے ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی تھی جس میں اُن کو ڈالا گیا تھا اس لئے فرماتا ہے۔یقیناً وہ لوگ جو مومن مَردوں اور عورتوں کو عذاب دیتے ہیں اُن کے لئے جہنم کا عذاب ہو گا۔یہاں ظاہری اور باطنی دونوں قِسم کی آگ مراد ہو سکتی ہے۔ظاہری اِس لحاظ سے کہ وُہ اُن کے جسموں کو دُکھ دیں گے۔اور باطنی اِس لحاظ سے کہ وہ ایسے ایسے جھوٹے الزام لگائیں گے جن کو سُن کر اُن کے دل جل جائیں گے۔اور وہ حیران ہوں گے کہ ہم کیا کریں۔فرماتا ہے وہ لوگ جو مومن مَردوں اور عورتوں کو جلاتے ہیں۔اُن کی طرف طرح طرح کی جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں۔اُن کا دل دکھانے کے لئے ہر قِسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ مت سمجھیں کہ ہماری گرفت سے وہ بچ سکیں گے۔چنانچہ آج کل ہماری جماعت کے خلاف جس رنگ میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اس کا ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے۔غیر احمدی ہمارا دل یہ کہہ کر زخمی کرتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے(تحفہ قادیانیت جلد اول صفحہ ۶۷۱ از محمد یوسف لدھیانوی)۔اور پیغامی یہ کہہ کر ہمیں دُکھ دیتے ہیں کہ ہم کلمہ طیبہ کو نعوذ باللہ منسوخ سمجھتے ہیں۔(ہفت روزہ پیغام صلح ۲۹ اگست ۱۹۷۳ صفحہ ۳) حالانکہ ہم جو کچھ کہتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپؐ کے جلال کے اظہار کے لئے کہتے ہیں۔کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہیں نکالتے جو آپؐ کی شان کو کم کرنے والی اور آپؐ کی عزت کو بٹّہ لگانے والی ہو۔پس فرماتا ہے وہ لوگ جو مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے بدنوں کو یا ان کے دلوں کو یا اُن کے گھروں کو جلاتے ہیں اور پھر اپنے اس فعل سے توبہ نہیں کرتے ہم ان کو عذاب میں مبتلا کریں گے۔ہاں اگر کوئی شخص