تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 531
وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ اور وہ ان سے صرف اس لئے دشمنی کرتے تھے کہ وہ غالب (اور سب تعریفوں کے مالک) اللہ پر کیوں الْحَمِيْدِۙ۰۰۹الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى ایمان لائے۔وہ (اللہ) جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور (یہ نہیں سوچتے کہ) اللہ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌؕ۰۰۱۰ ہر چیز (کے احوال سے) واقف ہے۔حَلّ لُغَات۔نَقَمُوْا۔نَقَمُوْا نَقَمَ سے جمع کا صیغہ ہے۔اور نَقَمَ مِنْہُ کے معنے ہوتے ہیں۔اَنْکَرَہٗ عَلَیْہِ وَعَابَہٗ وَکَرِہَہٗ اَشَدَّ الْکَرَاہَۃِ لِسُوْئِ فِعْلِہٖ۔اُس کی بات کو ناپسند کیا۔اُس پر عیب لگایا اور اُس کے بُرے فعل کی وجہ سے اُس سے شدید کراہت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔نیز کہتے ہیں نَقَمَ مِنْہُ اور معنے ہوتے ہیں عَاقَبَہٗ اُس کو سزا دی۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے اُن کی کوئی بات اُن کو حقیقتاً ناپسند نہیں ہو گی اور نہ اُن پر وہ کوئی حقیقی عیب لگا سکیں گے۔سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کیوں ایمان لائے۔یوں تو وہ بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوں گے مگر فرق یہ ہو گا کہ یہ لوگ عزیز اور حمید خدا پر ایمان رکھتے ہوں گے۔ایک زندہ اور قادر خدا کو مانتے ہوں گے مگر وُہ لوگ ایک مُردہ خدا کو ماننے والے ہوں گے۔پس چونکہ موعود کے اتباع اُن کے مردہ خدا کو نہیں مانتے ہوں گے بلکہ ایک عزیز اور حمید خدا کے قائل ہوں گے۔اس لئے وہ لوگ اُن کی مخالفت کریں گے۔اُن کو طرح طرح کے دُکھ دینے کی کوشش کریں گے اور کہیں گے کہ اُن لوگوں نے ایک نیا دین بنا لیا ہے۔حالانکہ وہ خدائے حمید کو پیش کر رہے ہوں گے اور یہ لوگ خدائے حمید پر طرح طرح کے عیوب لگا رہے ہوں گے۔مثلًا یہی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں یا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یونہی افضل الرسل بنا دیا۔ورنہ اگر اعمال کا سوال ہوتا تو ممکن تھا کہ کوئی اور شخص آپؐ سے آگےنکل جاتا ہے۔چنا نچہ دیکھ لو وہ تمام عقائد جن کی وجہ سے جماعت احمدیہ پر اعتراض کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ایک عقیدہ وہ ہے جو خدا کی حمد ثابت کرنے والا ہے مگر ان لوگوں کے سارے عقیدے وہ ہیں