تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 48
صلح حدیبیہ کے بعد ہی اسلام کی اس فتح کے آثار ظاہر ہونے شروع ہوگئے اور فتح مکّہ نے اس کو تکمیل تک پہنچا دیا۔پس فرماتا ہے اُس وقت لوگوں پر یہ ثابت ہو جائے گاکہ ان کے سارے لیڈ ر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے مقابلہ میں ایک سراب کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ قوم کو تباہ کرنے والے اور اُسے ذلّت کے گڑھوں میں گرانے والے ہیں۔اُس کو ترقی تک پہنچانے کی اُن میں کوئی قابلیت نہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ۰۰۲۲لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰبًاۙ۰۰۲۳ یقیناً جہنم ایک راستہ ہے (مگر مذکورہ بالا) سرکشوں کے لئے وہ ٹھہرنے کی جگہ (بھی) ہے۔حل لغات۔جَھَنَّمکہتے ہیں بِئْرٌ جَہَنَّمٌ اور مراد ہوتی ہے بَعِیْدَۃُ الْقَعْرِ گہری تہ والا کنواں (لسان)لسانؔ کے مصنف کہتے ہیں وَبِہٖ سُمِّیَ جَہَنَّمُ لِبُعْدِ قَعْرِھَا کہ جہنم کو اس لئے جہنم کہا جاتا ہے کہ اس کی تہہ گہر ی ہو گی۔مِرْصَادًا کے معنے ہیں اَلْمَکَانُ یُرْصَدُ فِیْہِ الْعَدُوُّ وہ جگہ جہاں دشمن کی انتظار کی جاتی ہے جس کو اُردو میں گھات کہتے ہیں۔نیز مِرْصَادًا کے معنے اَلطَّرِیْقُ کے بھی ہیں یعنی راستہ (اقرب ) مَاٰبٌ مَاٰب اٰبَ کا مصدر بھی ہے اور اسم زمان اور مکان بھی۔اٰبَ مَابًا کے معنےہیں رَجَعَ لوٹا (اقرب) اور الماٰب کے معنے ہیں اَلْمَرْجَعُ وَالْمُنْقَلَبُ لوٹنے کی جگہ۔(اقرب ) صاحب مفردات کہتے اَلْاَوْبُ ضَرْبٌ مِنَ الرُّجُوْعِ وَذَالِکَ اَنَّ الْاَوْبَ لَا یُقَالُ اِلَّا فِیْ الْحَیَوانِ الَّذِیْ لَہٗ اِرَاْدَ ۃٌ والرُّجُوْعُ یُقَالُ فِیْہِ وَفِیْ غَیْرِہٖ (مفردات)یعنی عربی زبان میں اردو زبان کے لفظ ’’لوٹنے‘‘کا مفہوم ادا کرنے کے لئے دولفظ آتے ہیں (۱) رُجُوْعٌ (۲) لیکن اَوْبٌ رُجُوْعٌ سے خاص ہے اس لئے کہ اَوْبٌ اس کے لوٹنے کو کہیں گے جو ذی ارادہ ہو اور رجوع ذو ارادہ اور غیر ذی ارادہ ہر دو کے لوٹنے کو کہتے ہیں۔تفسیر۔جہنم کے گھات میں ہونے سے مراد قتادہ کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جہنم گھات میں رہتی ہے جو اُس پر سے گزرتا ہے اگر اُس کے پاس جواز کا پروانہ ہو تو اُسے گزرنے دیتی ہے ورنہ اُسے وہیں گرا لیتی ہے ( ابن کثیر زیر آیت ھذا) گویا انہوں نے اس کے معنوں میں جسرِ صراط کی طرف اشار ہ کیا ہے لیکن اگر اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا سے وہی جہنم مراد لیا جائے جو اگلے جہان میں ہو گا تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ اس کا سِلسلہ اسی دنیا سے