تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 522

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ۰۰۵النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ۰۰۶ خندقوں والے ہلاک ہو گئے۔یعنی (خندقوں میں) آگ (بھڑکانے والے) جس میں (خوب) ایندھن (جھونکا اِذْ هُمْعَلَيْهَا قُعُوْدٌۙ۰۰۷وَّ هُمْ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ گیا) تھا۔جب وہ اس (آگ) پر (دھرنا مار کر) بیٹھے ہوئے تھے۔اور وہ مومنوں سے جو کچھ (معاملہ) بِالْمُؤْمِنِيْنَشُهُوْدٌؕ۰۰۸ کر رہے تھے آنکھیں کھولے کر رہے تھے۔حَلّ لُغَات۔اَلْاُخْدُوْدُ اَلْاُخْدُوْدُ کے معنے ہیں۔اَلْحُفْرَۃُ الْمُسْتَطِیْلَۃُ فِی الْاَرْضِ۔زمین میں لمبا کھدا ہوا گڑھا (اقرب) اِس کی جمع اَخَادِیْد آتی ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے ہلا ک ہو گئے یا ہلاک کئے جائیں گے اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ یعنی خندقوں والے۔النَّارِ۔وہ خندقیں جو نار پر مشتمل ہوں گی ایسی نار پر جو ذَاتِ الْوَقُوْدِ ہو گی۔ایندھن والی ہو گی۔یعنی ہماری مراد اِس اُخدود سے وہ آگ ہے جو اُخدود میں جلائی جائے گی۔گویا ہلاکت کا اصل سبب خندق کھودنا نہیں بلکہ خندق میں آگ جلا کر لوگوں کو مبتلائے تعذیب کرنا ہوگا۔اِذْھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ جبکہ وہ اُس پر بیٹھیں گے۔وَ هُمْ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُهُوْدٌ اور وہ جو کچھ مومنوں کے ساتھ کر رہے ہوں گے اُس پر وہ حاضر اور نگران ہوں گے۔اصحاب الاخدود کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات اور ان کی تردید اِن آیات کے متعلق مفسرین نے دو باتیں بیان کی ہیں۔اوّلؔ یہ کہ ایبے سینیاء کا ایک بادشاہ تھاجس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے بعض لوگوں کو جو توحید پر قائم تھے عذاب دیا اور بعض نے لکھا ہے کہ یہ دانیال اور اُس کے دو ساتھیوں کے متعلق ہے جن کو بخت نصر نے عذاب دیا تھا۔(روح المعانی زیر آیت ھذا) مَیں حیران ہوں کہ مفسّرین نے یہ کس طرح لکھ دیا۔اصل میں یہ بائیبل کا بیان کر دہ واقعہ ہے اور وہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔خصوصاً اس لئے کہ دانیال کی کتاب میں اس کا ذکر موجود ہے۔دانیال باب ۳ میں یہ واقعہ اس طرح مذکور ہے۔’’ اور نبوکدنضر بادشاہ نے ایک سونے کی مُورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ