تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 521

یومِ موعود کہہ رہے ہیں کیونکہ اُس دن خدا تعالیٰ کا نور اور جلال ظاہر ہو گا۔وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ۰۰۴ اور (آسمانی) گواہ کی۔نیز جس پر گواہی دی گئی ہے اُس (آسمانی وجود) کی بھی۔تفسیر۔شاہد کی تشریح قرآن مجید میں میرے نزدیک قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ شاہد کی جو تعریف فرما دی ہے وہی اِ س جگہ چسپاں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۂ ہود میں فرماتا ہے اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ(ہود:۱۸) یعنی کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہے اور اُس کی صداقت کا ایک گواہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آکر اس کی پیروی کرے گا اور اُس سے پہلے موسٰی کی کتاب تھی جو لوگوں کے لئے امام و رحمت تھی ایک جُھوٹے مدعی جیسا ہو سکتا ہے؟ اور مو سیٰ کے سچے پیرو اس پر بھی ضرور ایمان لاتے ہیں۔اور ان مخالف گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے گا تو دوزخ کی آگ اُس کے لئے وعدہ کی جگہ ہے۔پس اے مخاطب تو اس کے متعلق کسی قسم کے شک میں نہ پڑ وہ یقیناً بالکل حق ہےاور تیرے رب کی طرف سے ہے۔لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے۔شاہد سے مراد مسیح موعودؑ اِس آیت میں شَاھِدٌ مِّنْہُ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی خبر دی گئی ہے۔پس شاہد مسیح موعود ہیں اور مشہود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اِس جگہ بیان فرمائی ہے کہ ہم شہادت کے طور پر اُس شاہد کو پیش کرتے ہیں جس کا دوسری جگہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔اسی طرح ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو پیش کرتے ہیں۔پس شاہد سے مراد یہ ہے کہ اُس زمانہ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت لوگوں کے قلوب سے مٹ چکی ہو گی وہ اِس بات کی گواہی دے گا کہ آپؐ سچے ہیں اور قرآن کریم کی صداقت لوگوں پر واضح کرے گا۔