تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 520

کیونکہ وہ نبی کی صداقت پر گواہ ہوتا ہے اور خدا مشہود بھی ہوتا ہے کیونکہ نبی کے ذریعہ اُس کا وجود دُنیا میں پہچانا جاتا ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام میں اشارہ کیا گیا کہ یَاقَـمْرُ یَاشَـمْسُ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ (تذکرۃ صفحہ ۵۰۰ ،الحکم ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۶ ؁ صفحہ۱)اے قمر اور اے شمس تُو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے ہوں یعنی تُو قمر ہے ان معنوں میں کہ تُو نے جوکچھ نُور لیا مجھ سے لیا اور تُو شمس ہے اِن معنوںمیں کہ تیرے وجود سے میرا وجود روشن ہوا۔اِسی طرح مَیں شمس ہوں کیونکہ اگر مَیں تیری مدد نہ کرتا تو دُنیا میں تُو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکتا۔اور مَیں قمر بھی ہوں کیونکہ مجھے تُو نے دنیا میں روشناس کرایا۔پس جس طرح خدا شمس بھی ہوتا ہے اور قمر بھی اسی طرح نبی ایک حیثیت سے شمس ہوتا ہے اور دوسری حیثیت سے قمر ہوتا ہے۔یہی حال شاہد اور مشہود کا ہے۔ہر نبی شاہد ہوتا ہے اور خدا مشہود ہوتا ہے مگر دوسری طرف اِس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خدا شاہد ہوتا ہے اور نبی مشہود ہوتا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ شاہد اور مشہود ہم کسی اور چیز کو نہیں قرار دے سکتے۔خود اس حدیث میں جس کا مَیں نے ابھی ذکر کیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم جمعہ کو شاہد اور یوم عرفہ کو مشہود قرار دیا ہے۔دوسری طرف آپؐ نے قیامت کے دن کو مشہودقرار دےدیا ہے۔پس تمام حدیثیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ہم یوم القیامۃ کے یومِ موعود ہونے سے انکار نہیں کرتے۔اسی طرح شاہد اور مشہود کے متعلق حدیثوں میں جو کچھ آتا ہے اُسے بھی تسلیم کرتے ہیں مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہاں کون سی بات چسپاں ہوتی ہے۔یہاں یومِ موعود سے مراد زمانہ مسیح موعودؑ ہے یا قیامت کا دن ہے۔صاف بات ہے کہ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک سخت تاریک و تار رات کے بعد جو روحانی طور پر تمام دُنیا پر چھا جائے گی اللہ تعالیٰ ظہورِ قمر کو اتّساق کا مقام بخشے گا۔اور لغتًا یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ قمر کے لئے اتّساق کا لفظ اُس وقت استعمال کرتے ہیں جب وہ تیرہویں رات کا ہو۔گویا تیرہویں رات کے چاند کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اس کے بعد سورئہ بروج میں پھر یہی ذکر فرمایا مگر اس رنگ میں کہ پہلے بارہ بروج کا ذکر فرمایا اور پھر تیرہویں نمبر پر یوم موعود کا۔اِس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اِس جگہ یومِ موعود سے مراد وہی مسیح موعودؑ ہے جس کے لئے یہ مقدر کیا جا چکا تھا کہ وہ بارہ بروج کے بعد دُنیا میں مبعوث ہو گا۔یوم کے معنے وقت کے ہوتے ہیں۔اگر یہ معنے مراد لئے جائیں تو یوم موعود سے مراد وقت موعود ہو گا اسی طرح یومِ نہار یعنی معروف دن کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اِ س صورت میں والیوم الموعود کے یہ معنے ہوں گے کہ گو مثال ہم رات کی دیتے چلے آئے ہیں مگر اپنی ذات میں وہ وقت دن کی طرح روشن ہو گا اس لئے ہم اُسے