تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 468
خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ اُس کے آخر میں مُشک ہو گا۔حَلّ لُغَات۔خِتَام:خِتَام خَتَمَ کا مصدر ہے اور اس کے معنے ہیں اَلْفَصُّ مِنْ مَفَاصِلِ الْخَیْلِ۔وَالْمَقْطَعُ وَالطِّیْنُ یُخْتَمُ بِہٖ عَلَی الشَّیْءِ۔(اقرب) یعنی خِتَام گھوڑے کے جوڑ کو کہتے ہیں۔اسی طرح خِتَام نظم کے آخری شعر کو بھی کہتے ہیں اور ختام اُس مٹی کوبھی کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی دوسری چیز پر مہر لگائی جائے۔پس خِتَامُہُ مِسْکٌ کے یہ معنے ہوئے کہ (۱)وہ منہ بند کرنے والی چیز مشک کی ہو گی (۲)یا اُس کا آخری حصہ مشک ہو گا (۳)یا اس کے انتہاء تک مشک ہو گا۔تفسیر۔خِتٰمُهٗ مِسْكٌکے تین معنے اس آیت کے پہلے معنے یہ ہیں کہ اُس کی مُہر مُشک کی ہو گی یعنی جو اشیاء اُس کی حفاظت پر لگیں گی وہ بھی مُشک کی طرح ہو ں گی۔یہ امر ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی خدمت اور اُس کی حفاظتِ ظاہری کا کام حُفّاظ اور قراء کے سپرد ہے۔وہ قرآن کریم کے خادم ہیں اور اس کی حفاظت کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔جس طرح مُہر کی یہ غرض ہوتی ہے کہ کوئی چیز باہر سے اندر داخل نہ ہواور کوئی چیز اندر سے باہر خارج نہ ہو اسی طرح اس آیت میں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن کریم کی خدمت پر ایسے انسان مقرر کئے جائیں گے جو مشک کی طرح خوشبودار ہوں گے یعنی وہ اعلیٰ درجہ کے نیک۔اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والے اور قرآن کریم کی حفاظت کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوا جس میں حفّاظ کی ایک بڑی بھاری جماعت دنیا میں موجود نہ ہو اور وہ قرآن کریم کی خدمت نہ کر رہی ہو۔پس خِتٰمُهٗ مِسْكٌ میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس کی حفاظت ظاہری کے لئے ہم ایسے لوگ کھڑے کر دیں گے جو نیکی اور تقویٰ میں اعلیٰ مقام رکھتے ہوں گے اور مشک کی طرح خوشبودار ہوں گے۔دوسرےؔ معنے اس کے یہ ہیں کہ اُس کا آخر مشک کا ہو گا شراب کے نیچے ہمیشہ ایک چیز بیٹھ جاتی ہے جسے گارؔ کہتے ہیں۔یورپ میں تو یہ قاعدہ ہے کہ وہ شراب کشید کرنے کے بعد اُسے سال سال دو دو سال تک پڑا رہنے دیتے ہیں اور اُس کے بعد اُسے شیشیوں میں بھرتے ہیں تاکہ جس قدر دُرد تہ نشین ہونی ہے وہ ہو جائے بلکہ بعض دفعہ تو دس دس پندرہ پندرہ سال تک شراب کو کشید کر کے رکھ دیتے ہیں۔تاکہ انگور وغیرہ کے باریک ذرّے جو پانی میں ملے ہوئے ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ تہ نشین ہو جائیں مگر پہلے زمانہ میں یہ رواج نہیں تھا اور شراب بنانے کے بعد جلد ہی