تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 469
بیچ دیتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ شراب کی بوتل کے نیچے گار بیٹھ جاتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شراب کی دُرد تو گندی ہوتی ہے مگر قرآن وہ کتاب ہے جس کا دُرد بھی مشک کی طرح ہے۔اب تم خود ہی سوچ لو کہ جس کا دُرد مشک کا ہو گا اس کا اصل کیسا ہو گا۔دُرد کیا ہوتا ہے۔دُرد ظاہری جسم کو کہتے ہیں مثلًا انگور یا کھجور وغیرہ سے شراب نکالی جائے تو انگور کے باریک باریک ذرّے یا کھجور وغیرہ کے ذرّات نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور شراب اُن انگوروں یا کھجوروں کا سَت ہوتا ہے۔پس چونکہ دُرد ظاہری جسم کو کہتے ہیں اور شراب ست ہوتا ہے اس لئے جب قرآن کے متعلق یہ کہا گیا کہ اس کی گار بھی مشک ہے تو اس گار سے مراد قرآن کریم کی ظاہری تعلیم ہو گی۔پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وہ کتاب ہے کہ اس کی ظاہری تعلیم بھی اچھی ہے اور اس کی باطنی تعلیم بھی اچھی ہے۔اس کی موٹی سے موٹی تعلیم جو کسی معاملہ کے متعلق ہو لے لو وہ مشک ہی مشک ہو گی اس سے تم قرآن کریم کی اعلیٰ درجہ کی روحانی تعلیمات کا اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کیسی ہوں گی۔تیسرےؔ معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح اس قرآن کی ابتداء اعلیٰ ہے اسی طرح اس کی انتہاء بھی اعلیٰ ہو گی۔ابتداء میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان انسان اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام لے کر آیا اور آخری زمانہ میں مسیح موعودؑ اس کی اشاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو گا۔گویا یہ وہ گلاس ہے جسے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لوگ پینا شروع کریں گے اور پیتے چلے جائیں گے مگر آخر تک یہ مشک ہی مشک رہے گا یعنی ہمیشہ اللہ تعالیٰ ایسے آدمی مبعوث کرتا رہے گا جو قرآن کریم کی خدمت کریں گے اور اسلام کی اشاعت کا کام سرانجام دیں گے اور آخری زمانہ میں بھی ایسا آدمی پیدا ہو گا جو اس قرآن کی خوشبو کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔خِتٰمُهٗ مِسْكٌکا ظاہری الفاظ میں پورا ہونا یہاں ایک لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مشک بڑا پسند تھا اور آپ ہمیشہ اُسے استعمال فرمایا کرتے تھے پس فرمایا اس کا ختام بھی مشک پر ہوگا یعنی ایسے انسان پر جو کثرت سے مشک استعمال کرنے والا ہو گا خدا تعالیٰ کی سُنت ہے کہ وہ بالعموم ایک ظاہری علامت شناخت کی بھی مقرر فرما دیتا ہے۔جیسے ختم نبوت کے حقیقی معنوں کے ساتھ ایک نشان بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پشت مبارک پربنا ہوا تھا۔