تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 467
کی وفات کے بعد خطرہ ہو سکتا تھا کہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو جائے سو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ بعد میں بھی یہ مختوم ہی رہے گا۔یہاں چونکہ مسلمانوں کو بادشاہت عطا کئے جانے کا ذکر ہو رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان ارائک پر بیٹھیں گے اِس لئے اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جب مسلمان بادشاہ ہو جائیں گے۔حکومت اُن کو حاصل ہو جائے گی۔طاقت اُن کے پاس ہو گی اور وہ تمام قسم کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوں گے اُس زمانہ میں بھی قرآن بالکل محفوظ رہے گا اور کسی بادشاہ کو بھی یہ طاقت نہیں ہو گی کہ وہ اس میں تصرّف کر سکے۔دنیا میں عام طور پر جب بادشاہت کا زمانہ آتا ہے تو لوگ چاہتے ہیں کہ اب ہم عیش کریں اور لُطف اُٹھائیں اور چونکہ مذہبی تعلیمیں اُن کے عیش میں حائل ہوتی ہیں اس لئے وہ اُن تعلیموں کو بدلنا شروع کر دیتے ہیں۔مگر فرماتا ہے قرآن وہ ہے جو اسلامی ترقی کے زمانہ میں بھی بالکل خالص رہے گا نہ کوئی تعلیم اس میں سے خارج ہو سکے گی اور نہ کوئی نئی تعلیم اس میں داخل کی جا سکے گی۔مسیحیوں میں اسی طرح خرابی پیدا ہوئی کہ جب روما کا بادشاہ عیسائیت میں داخل ہونے لگا تو اس نے کہا کہ مجھے عیسائیت قبول کرنے میں تو کوئی عذر نہیں مگر سبت کا دن جو ہفتہ کو منایا جاتا ہے وہ اتوار کے دن منا لیا جایا کرے کیونکہ ہماری قوم اتوار کا دن مناتی ہے ہفتہ کا دن نہیں مناتی۔عیسائیوں نے سبت کا دن بدل کر اتوار کر دیا۔پھر اُس نے کہا کہ ہماری قوم خالص توحید کا عقیدہ نہیں مان سکتی اس میں کچھ ایسے اشارے کنائے رکھ دیں جن کو دیکھ کر لوگوں کے لئے عیسائیت قبول کرنا آسان ہو جائے۔انہوں نے یہ بات بھی مان لی اور کہا کہ ہم۔باپ خدا بیٹا خدا اور روح القدس خدا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ وہ بادشاہ مع اپنی قوم کے عیسائیت میں شامل ہو گیا۔عیسائیوں نے پہلے تو صرف لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرنے کے لئے یہ تین نام رکھے تھے مگر آہستہ آہستہ یہ حقیقت میں تبدیل ہو گئے اور عیسائیوں نے ایک کی بجائے تین خدائوں کا عقیدہ اختیار کر لیا۔تو جب بادشاہت آتی ہے۔ترفّہ آتا ہے۔طاقت حاصل ہوتی ہے تو مذہب میں کئی قسم کی تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مسلمان جب آرائک پر بیٹھیں گے۔جب تختِ حکومت ان کو نصیب ہو گا۔جب طاقت اُن کو حاصل ہو گی۔جب اقتدار اُن کو میسّر آئے گا تو اُس وقت بھی یہ کلام رحیقِ مختوم رہے گا اور بادشاہوں کو بھی یہ جرأت نہیں ہو گی کہ وہ اس میں اپنے مطلب کی کوئی چیز بڑھا دیں یا اس کی کسی تعلیم کو خارج کر دیں۔گویا اسلام کی ترقی کے زمانہ میں بھی قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا ہے۔اسی طرح اس میں شیعوں کا ردّ بھی ہو گیا جو خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ غائب ہے کیونکہ ختمؔ کے دونوں مفہوم ہوتے ہیں نہ اُس میں کوئی چیز پڑ سکتی ہے اور نہ اس میں سے کوئی چیز نکل سکتی ہے پس جو کتاب مختوم ہو اُس کے متعلق یہ کہنا کہ اُس کا ایک حصہ غائب ہو چکا ہے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔