تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 454

علّیّین کے متعلق حضرت ابن عباس کاایک قول علّیّین کے متعلق حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنّت ہے (ابن کثیرزیر آیت ھذا) اور مفردات والے لکھتے ہیں کہ بَلْ ذالِکَ فِی الْحَقِیْقَۃِ اِسْمُ سُکَّانِھَا درحقیقت یہ جنت میں رہنے والوں کا نام ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ھٰذَا اَقْرَبُ فِی الْعَربِیَّۃِ اِذْ کَانَ ھٰذَا الْجَمْعُ یَخْتَصُّ بِالنَّاطِقِیْنَ۔عربی زبان کے لحاظ سے علّیّین کے یہ معنے بالکل درست ہیں کیونکہ یہ جمع ذوی العقول کے ساتھ ہی مختص ہے۔پس اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ ابرار کا نام علّیّین میںلکھا ہوا ہے یا جہاں علّیّین کا ذکر ہے وہاں اِن کا بھی ہے۔ابن ماجہ۔طبرانی اور بیہقی میں عبداللہ بن کعب بن مالک کی ایک روایت آتی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ علّیّین کیا چیز ہے حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ لَمَّا حَضْرَتْ کَعْبًا الْوَفَاۃُ اَتَتْہُ اُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ فَقَالَتْ اِنْ لَّقِیْتَ اِبْنِیْ فَاَقْرَئْ ہُ مِنِّی السَّلامَ فَقَالَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ اُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ اَشْغَلُ مِنْ ذَالِکَ فَقَالَتْ اَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ نَسَمَۃَ الْمُؤْمِنِ تَسْرَحُ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شَآءَ تْ وَاِنَّ نَسَمَۃَ الْکَافِرِ فِیْ سِجِّیْنٍ قَالَ بَلٰی قَالَتْ فَھُوَ ذَالِکَ۔یعنی عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں جب حضرت کعبؓ کی وفات قریب پہنچی تو ایک صحابیہ اُمّ بشر نام اُن کے پاس آئیں اور جب اُنہوں نے اُن کو حالتِ نزع میں دیکھا تو وہ کہنے لگیں میاں کعب تمہیں اگلے جہان میں اگر میرابیٹا نظر آ جائے تو اُسے میرا سلام کہہ دینا۔حضرت کعبؓ کہنے لگے غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ اُمَّ بِشْرٍ۔اے اُمِّ بشر اللہ تعالیٰ تجھے معاف کرے۔میری جان کندنی کا وقت ہے اور تُواپنے بیٹے کاسلام مجھے پہنچا رہی ہے مجھے تو اس وقت یہ فکر ہے کہ میں نے خدا کو کیا جواب دینا ہے تیرے بیٹے کو سلام پہنچانا کس کو یاد رہے گا۔وہ کہنے لگیں کیا تم نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی کہ مومن کی روح جنّت میں جہاں چاہتی ہے چلی جاتی ہے لیکن کافر کی رُوح سجّین میں پڑی رہتی ہے؟ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علّیّین کے معنے آزادی اور حُرّیت کے ہیں کیونکہ بتایا گیا ہے کہ اِنَّ نَسَمَۃَ الْمُؤْمِنِ تَسْرَحُ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شَآءَ تْ مومن کی روح جنت میں جہاں چاہے گی جا سکے گی۔اس کے مقابلہ میں سجّین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور سجّین کے معنے مَیں اس سے پہلے بتا چکا ہوں کہ قید کے ہیں۔پس علّیّین کے معنے آزادی اور حُرّیت کے ہوئے اور آیت کا مطلب یہ ہوا کہ کفّار نے جس طرح اپنے اعمال کا دائرہ بہت محدود رکھا تھا اور جس طرح اعمال صالحہ کی بجا آوری میں انہوں نے کوتاہی کی تھی اسی طرح اُنہیں سجّین یعنی ایک قید کی حالت میں رکھا جائے گا لیکن مومن نے چونکہ اپنے اعمال کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع رکھا تھا اس لئے وہ علّیّین میں شامل ہو گا یعنی ایسی جماعت میں جس کی نیکی اور اتقاء کی کوئی حد ہی نہیں۔یہ معنے تو دنیا کے لحاظ سے ہیں۔لیکن آخرت کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس طرح اس جہان میں اُس نے اپنے اعمال کا دائرہ وسیع کر رکھا تھا اسی طرح اگلے جہان میں خدا اس سے یہ سلوک کرے گا کہ وہ اس کی روح کو آزاد رکھے گا اور وہ جہاں چاہے گا جا سکے گا۔میں نے اپنی کتاب ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ میں اس امر پر بحث کی ہے کہ روحِ انسانی جنت میں ہر جگہ جا سکتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب جنّتیوں کا ایک درجہ ہو جائے گا۔میں نے وہاں ثابت کیا ہے کہ ایک جنتی ہر جگہ جا بھی سکتا ہے اور درجوں میں بھی فرق رہ سکتا ہے۔(انوار العلوم جلد ۸ ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام صفحہ ۳۳۶)۔الغرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ اے عیسائیو! یاد رکھو کہ تمہاری تباہی کے لئے تین زبردست جھٹکے لگیں گے اور تباہی کے ان تینوں دَوروں کے بعد جب آخری جھٹکا لگے گا تو یکدم مسلمانوں کونیچے سے اُٹھا کر اعلیٰ درجہ کے مراتب پر پہنچا دیا جائے گا۔