تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 455

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّيُّوْنَؕ۰۰۲۰كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ۰۰۲۱ اور تجھے کس نے بتایا ہے کہ علّیّون کیا ہے۔ایک لکھا ہوا حکم ہے جسے مقرب لوگ يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۙ۰۰۲۲ (خود اپنی آنکھوں سے) دیکھیں گے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے سننے والے! تجھے کیا پتہ کہ عِلِّیُّوْن کس کو کہتے ہیں کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ یہ ایک دفتر ہے جو لکھا ہوا ہے یا کِتَابٌ مَخْتُوْمٌ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر مہر لگ چکی ہے اور جو اٹل ہے یا یہ کہ یہ ایک لکھا ہوا فیصلہ ہے اس کے بھی وہی معنے ہیں جو پہلے کے ہیں کیونکہ اٹل اُسی فیصلہ کو کہتے ہیں جو لکھا ہوا ہو۔يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠۔یہ نتیجہ یا یہ انجام جس کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے اس کو مقرّب لوگ دیکھیں گے یا حاضر ہوںگے اس مقام پر مقرب۔یہ فرق ہے جو مومن اور کافر میں ہےیعنی کافر کے لئے وہ دن ایسا ہو گا کہ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۔وہ آہیں بھرے گا۔افسوس کرے گا اور کوشش کرے گا کہ کِسی طرح میں اس انجام سے بھاگوں لیکن مقرب اس کی طرف دوڑ کر جائے گا اور اپنی مرضی سے جائے گا کیونکہ اس کےلحاظ سے وہ پسندیدہ انجام ہو گا۔گویا کفّار کی تباہی اور اس کے مقابلہ میں مومنوں کے اقتدار کی پیشگوئی یہاں آکر ختم کی اور بتایا کہ بے شک مطفّفین کا ایک لمبے عرصہ تک غلبہ چلا جائے گا مگر اللہ تعالیٰ اس غلبہ کو ضرور ختم کرے گا۔عیسائیت کی تباہی کے بعد اسلام کے غلبہ کے لئے ایک جھٹکا چنانچہ ایک ہی سورۃ میں چار دفعہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کَلَّا کے استعمال میں یہ مخفی اشارہ پایا جاتا ہے کہ مغربی اقوام کی تباہی کے لئے تین زبردست جھٹکے لگیں گے اس کے بعد چوتھا جھٹکا ایسا ہو گا جو اِن مطفّفین کا انجام اُن کی آنکھوں کے سامنے لے آئے گا۔اسلام غالب آ جائے گا۔کفر تباہ ہو جائے گا اور ان عیسائیوں کا انجام ایسا خطرناک ہو گا کہ وہ اِس سے بھاگنے کی پوری کوشش کریں گے مگر وہ اس سے بھاگ نہیں سکیں گے لیکن مومن اپنے انجام کی طرف دوڑ کر جائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسا اچھا انجام ہے۔کفار کے لئے لفظ سجین مفرد لانے اور مومنوں کے لئے علیون جمع استعمال کرنے میں