تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 453

رحیمؔ اور قادر اور کریم خدا سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ہو گا اور اس وجہ سے وہ جنّت کے مستحق نہیں ہوں گے بلکہ دوزخ کے ہی مستحق رہیں گے۔كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَؕ۰۰۱۹ یُوں نہیں (جس طرح تم کہتے ہو بلکہ) ابرار (کی جزاء) کا حکم یقیناً عِلّیّین میں ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے خبردار! تم یہ سمجھتے ہو کہ مومن ترقی نہیں کریں گے! یہ بالکل غلط ہے مومنوں کی قسمت توعلّیّین میں لکھی ہوئی ہے۔اگر اس کے معنے قرآن کریم کے کئے جائیں تو علّیّین سے مراد قرآن کریم کے وہ حصّے ہوں گے جن میں مومنوں کی ترقیات کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئیاں موجود ہیں۔اور اگر علّیّین سے مراد اعلیٰ مقامات لے لو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ مومنوں کی قسمت تو اعلیٰ درجہ کے مقامات کے متعلق فیصل شدہ ہے۔علّیّین کے متعلق حضرت ابن عباس کاایک قول علّیّین کے متعلق حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنّت ہے (ابن کثیرزیر آیت ھذا) اور مفردات والے لکھتے ہیں کہ بَلْ ذالِکَ فِی الْحَقِیْقَۃِ اِسْمُ سُکَّانِھَا درحقیقت یہ جنت میں رہنے والوں کا نام ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ھٰذَا اَقْرَبُ فِی الْعَربِیَّۃِ اِذْ کَانَ ھٰذَا الْجَمْعُ یَخْتَصُّ بِالنَّاطِقِیْنَ۔عربی زبان کے لحاظ سے علّیّین کے یہ معنے بالکل درست ہیں کیونکہ یہ جمع ذوی العقول کے ساتھ ہی مختص ہے۔پس اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ کے یہ معنے ہوئے کہ ابرار کا نام علّیّین میںلکھا ہوا ہے یا جہاں علّیّین کا ذکر ہے وہاں اِن کا بھی ہے۔ابن ماجہ۔طبرانی اور بیہقی میں عبداللہ بن کعب بن مالک کی ایک روایت آتی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ علّیّین کیا چیز ہے حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ لَمَّا حَضْرَتْ کَعْبًا الْوَفَاۃُ اَتَتْہُ اُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ فَقَالَتْ اِنْ لَّقِیْتَ اِبْنِیْ فَاَقْرَئْ ہُ مِنِّی السَّلامَ فَقَالَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ اُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ اَشْغَلُ مِنْ ذَالِکَ فَقَالَتْ اَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ نَسَمَۃَ الْمُؤْمِنِ تَسْرَحُ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شَآءَ تْ وَاِنَّ نَسَمَۃَ الْکَافِرِ فِیْ سِجِّیْنٍ قَالَ بَلٰی قَالَتْ فَھُوَ ذَالِکَ۔یعنی عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں جب حضرت کعبؓ کی وفات قریب پہنچی تو ایک صحابیہ اُمّ بشر نام اُن کے پاس آئیں اور جب اُنہوں نے اُن کو حالتِ نزع میں دیکھا تو وہ کہنے لگیں میاں کعب تمہیں اگلے جہان میں اگر میرابیٹا نظر آ جائے تو اُسے میرا سلام کہہ دینا۔حضرت کعبؓ کہنے لگے غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ اُمَّ بِشْرٍ۔اے اُمِّ بشر اللہ تعالیٰ تجھے معاف کرے۔میری جان کندنی کا وقت ہے