تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 432

کر کبھی بھنگ اور چرس اور گانجا استعمال کر کے چاہتا ہے کہ ہر وقت مدہوش رہے اور اُس کا بُرا انجام اس کی آنکھوں کے سامنے نہ آئے یا اگر وہ شراب اور افیون استعمال نہیں کرتا تو علمی طور پر تکذیب یوم الدین شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ محض وہم ہے کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اپنے اعمال کے متعلق اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دِہ ہونا پڑے گا۔گویا یا تو وہ مادی نشوں کے ذریعہ سے اپنے علم کو کمزور کرتا ہے اور یا پھر فلسفی نشوں سے وہ اپنے علم کو کُند کر دیتا ہے تاکہ وہ اس عذاب سے بچ جائے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ واقعہ میں اگر انسان اس پر غور کرے تو اُسے حیرت آجاتی ہے کہ کروڑوں لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں اور اُن کے اس مرض کی وجہ سوائے اعتداءؔ اور اثم کے اور کچھ نہیں۔وہ اعتداء اور اِثم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ اُن کا انجام بھیانک ہے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اس انجام کو بُھول جائیں۔چنانچہ یا تو وہ افیون اور شراب وغیر ہ سے وہ اپنے اوپر مدہوشی طاری کر لیتے ہیں اور یا پھر فلسفی نشوں سے وہ یوم الدین کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ ہے کہ انسان مر کر دوبارہ زندہ ہو گا۔غرض فرماتا ہے وہ پہلے اعتداء اور اثم کرتے ہیں اور جب اعتداء اور اثم میں بڑھ جاتے ہیں تو مادی یا دماغی نشوں سے یوم الدین کو بُھلا دیتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اَور زیادہ اعتداءؔ اور اَور زیادہ اثم کرتے ہیں گویا اُن کی مثال بالکل اُس چیتے کی سی ہوتی ہے جس نے بھوک میں اپنی زبان چاٹنی شروع کر دی تھی اور رفتہ رفتہ اس کی تمام زبان کھائی گئی تھی۔یہ لوگ بھی پہلے اعتداءؔ اور اثم کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یوم الدین کو بُھلا دیتے ہیں۔جب یوم الدین کو بھول جاتے ہیں تو اَور زیادہ اعتداء اور اثم کرتے ہیں اور یہ چکّر چلتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اُن کے اعمال کا جہازاس کی ظلم کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَؕ۰۰۱۴ جب ایسے لوگوں کے سامنے ہمارے نشانات پڑھے جائیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کی نقل کردہ باتیں ہیں۔حَلّ لُغَات۔اَسَاطِیر اَسَاطِیرجمع ہے اور اس کا واحد اَلْاِسْطَارُ وَالْاُسْطَارُ وَالْاُسْطُوْرُ وَالْاُسْطِیْرُ ہے اور اسکے معنے ہوتے ہیں مَا یُسْطَرُ اَیْ یُکْتَبُ ہر وہ چیز جو لکھی جائے (اقرب) پس اَسَاطِیْر کے معنے ہوئے لکھی ہوئی باتیں وَتُسْتَعْمَلُ فِی الْحَدِیْثِ لَانِظَامَ لَہٗ عام محاورہ میں اَسَاطِیْر بے جوڑ باتوں کو بھی کہتے ہیں۔اِسی طرح ایک معنے حکایت کے ہیں (اقرب) یہ وہی لفظ ہے جس سے انگریزی میں سٹوری بنا ہے اور سپین سے