تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 431

انہیں علم بھی دیا ہوتا ہے وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ان کے اعمال کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا مگر پھر وہ کیوں یوم الدین کو بھول جاتے ہیں۔مُعْتَدٍ اور اَثِیْمٍ میں فرق فرماتا ہے اس کی دو وجوہ ہیں اِعْتِدَاء اور اِثْم۔یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے انسان یوم الدین کو بھول جاتا ہے یعنی جو کام نہ کرنے والے ہوں ان کو وہ کر لیتا ہے اور جو کام کرنے والے ہوں اُن کو وہ نہیں کرتا۔معتدؔ وہ ہے جو نہ کرنے والے کاموں کو کرے اور اثیمؔ وہ ہے جو کرنے والے کاموں کو نہ کرے۔یوں اِثم کے عام معنے گناہ کے ہی ہوتے ہیں مگر کسی لفظ کے وضعِ لغت کے لحاظ سے مخصوص معنے اس جگہ ہوتے ہیں جہاں اُس کے مقابل کا لفظ آجائے۔اگر خالی مُعْتَدٍ کا لفظ یہاں آ جاتا تو ہم اس کے معنے گناہ کے کرتے۔چاہے وہ گناہ کسی بات میں زیادتی کا نتیجہ ہوتا یا کسی بات میں کمی کا نتیجہ ہوتا۔اسی طرح اگر خالی اِثْیم کا لفظ آجاتا تواس کے معنے بھی ہم گناہ کے ہی کرتے۔چاہے یہ گناہ زیادتی پر دلالت کرتا اور چاہے کمی پر۔مگر چونکہ معتداور اثیم دونوں لفظ اکٹھے آگئے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ دونوں کو ہم الگ الگ مفہوم کا حامل قرار دیں اور وہ مفہوم جیسا کہ اُوپر بتایا جاچکا ہے یہ ہے کہ اِثْم کا لفظ کمی پر دلالت کرتا ہے اور اعتداء کا لفظ زیادتی پر دلالت کرتا ہےاور اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ یوم الدین کی تکذیب ہمیشہ اعتداءؔ اور اثمؔ سے پیدا ہوتی ہے۔پہلے انسان گناہ کرتا ہے اور جب اسے اپنے گناہ کے متعلق گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ کہیں میں پکڑا نہ جائوں یا میری بدنامی نہ ہو اور اس فکر میں اس کی جان گھلنی شروع ہوتی ہے تو اس کا دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ کوشش کرتا ہے مَیں اپنے انجام کو بھول جائوں اور اس طرح میں اپنے دل کی خلش سے بچ جائوں۔گویا یوم الدین کی تکذیب ایک شراب ہے جس کے نشہ میں مدہوش ہو کر وہ اپنے انجام سے مستغنی ہو جاتا ہے۔جیسے غالب نے کہا ہے ؎ مے سے غرض نشاط ہے کس رُوسیاہ کو اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے (دیوان غالب صفحہ ۶۸) یعنی انجام کا خیال اب میرے دل پر ہر وقت مستولی رہتا ہے اور اس فکر میں میری جان گھل رہی ہے۔میں اس فکر سے بچنے کے لئے شراب پیتا ہوں تا کہ مجھ پر ہر وقت ایک بے خودی کی حالت طاری ر ہے اور انجام میری آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔اسی طرح تکذیب یوم الدین ایک قسم کی شراب ہے جب انسان اعتداء اور اِثم میں پڑھتا چلا جاتا ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ان اعمال کا انجام وہ بھول جائے۔چنانچہ وہ کبھی افیون کھا کر۔کبھی شراب پی