تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 433

انگریزی زبان میں بدل کر آگیا ہے پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں یعنی مُعْتَدٍ اور اَثِیْم کے سامنے۔تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں سے نقل کی ہوئی کچھ بے جوڑ سی باتیں ہیں یا یوں کہو کہ لغت کے لحاظ سے اس کے تین معنے بن جائیں گے (۱) پہلے لوگوں سے لکھی ہوئی یعنی نقل کی ہوئی کچھ باتیں ہیں (یہ معنی یَکْتُبُ سے لئے جائیں گے) (۲)یا پہلے لوگوں کے متعلق کچھ بے جوڑ سی باتیں ہیں (۳)یا پہلے لوگوں کی حکائتیں اور کہانیاں ہیں۔تفسیر۔قرآن کریم میں اساطیر الاولین کا الزام نو مقامات پر قرآن کریم میں اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْن کا الزام نو مقامات پر آتا ہے جو یہ ہیں (۱)انعام ع۳ ۹ (۲)انفعال ع ۴ ۸ ۱ (۳)نحل ع۳ ۹ (۴)مومنون ع۵ ۵(۵)فرقان ع ۱ ۶ ۱ (۶)نمل ع۶ ۲ (۷)احقاف ع۲ ۲ (۸)ن والقلم ع ۱ ۳ (۹)تطفیف ع ۱ ۸ (۱) سورۂ انعام میں پہلے اہل کتاب کا ذکر کیا ہے پھر کفار کا ذکر ہے اور فرماتا ہے حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ يُجَادِلُوْنَكَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(انعام :۲۶) (۲) سورۂ انفال میں ہےوَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ (انفال:۳۲) (۳)سورۂ نحل میںوَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۔لِيَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوْنَ(النحل:۲۵،۲۶) (۴) سورۂ مومنون میں ہے قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠۔لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(مومنون:۸۳،۸۴) (۵) سورۂ فرقان میں ہے وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ ا۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا۔وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا(الفرقان:۵،۶) (۶) سورۂ نمل میں ہے وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۔لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ (النمل:۶۸،۶۹) (۷) سورۂ احقاف میں ہے وَ الَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِيْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِيْ١ۚ وَ هُمَا يَسْتَغِيْثٰنِ اللّٰهَ وَيْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَيَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ(احقاف:۱۸) (۸) سورۂ ن والقلم میں ہےاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ پھر فرماتا ہے سَنَسِمُهٗ عَلَى