تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 426
میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں گویا وہ خاتم الکتب ہے اور یہ خوبی قرآن کریم میں ہی پائی جاتی ہے۔اگر یہ فیصلے کسی ایسی کتاب میں بیان ہوتے جو منسوخ ہو چکی ہوتی یا جس نے آئندہ کسی زمانہ میں منسوخ ہو جانا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ جب یہ کتاب منسوخ ہو چکی یا آئندہ منسوخ ہونے والی ہے تو اس کے فیصلوں سے کیا خوف ہو سکتا ہے مگر یہ سجّین تو وہ ہے جو کتاب مرقوم ہے۔یعنی یہ فیصلے اُس کتاب میں لکھے ہوئے ہیں جو کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی اس لئے یہ فیصلے اٹل ہیں۔اس صورت میںاِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ میں کتاب کو حکم کے معنوں میں لیا جائے گا اور مراد یہ لی جائے گی کہ اِن فجّار کا حکم سجِّین میں ہے اور سجّین کے معنے قرآن کریم کے انذاری حصہ کے ہوں گے۔اسی طرح علّیّین سے مراد قرآن کریم کا وہ تبشیری حصہ لیا جائے گا جس میں مومنوں کی ترقیات کا ذکر آتا ہے۔پس میرے نزدیک یہ ایک نہایت ہی لطیف اور واضح معنے ہیں جو اس مقام پر پوری طرح چسپاں ہوتے ہیں کیونکہ جیسے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین ہیں اسی طرح قرآن خاتم الکتب ہے اُس کے فیصلے اٹل اور قطعی ہیں خواہ وہ کفار کی تباہی کے متعلق ہوں یا مومنوں کی ترقی کے متعلق ہوں۔ما اَدْرَاک اور ما یُدرِیکَ کےاستعمال میں فرق ابمَاۤ اَدْرٰىكَکے متعلق بھی ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔عربی زبان میں وَمَاۤ اَدْرٰىكَ اور مَایُدْرِیْکَ دونوں کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ مَا تَدْرِیْ تُو اس بات کو نہیں جانتا۔لیکن قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن دونوں الفاظ کے استعمال میں فرق ہے۔قرآن کریم میں مَآ اَدْرَاکَ اور مَایُدْرِیْکَ دونوں ہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔مَا اَدْرَاکَ بارہ جگہ آیا ہے اور مَایُدْرِیْکَ تین جگہ آیا ہے۔چنانچہ مَآاَدْرَاکَ جن بارہ مقامات پر آیا ہے وہ یہ ہیں (۱)الحاقہ (۲)مدثّر (۳)مرسلات (۴)انفطار (۵)تطفیف (۶)تطفیف (۷)طارق (۸)بلد(۹)قدر (۱۰)قارعہ (۱۱)قارعہ (۱۲)ہُمزہ۔ان سب مقامات پر مَا اَدْرَاکَ کے بعد اسم آیا ہے جیسے مَاالْحَاقَۃ۔مَاسَقَرَ۔مَایَوْمُ الدِّیْن۔مَاسِجِّیْن۔مَاعِلِّیُّوْن۔مَاالطَّارِق۔مَاالْعَقَبَۃ۔مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ۔مَاالْقَارِعَۃ۔مَا ھِیَہ مَاالْحُطَمَۃ۔اس کے برخلاف مَایُدْرِیْکَ جتنی جگہ آیا ہے کسی فعل کی طرف اُس میں اشارہ ہے۔چنانچہ مَایُدْرِیْکَ قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے۔سورۂ شوریٰ میں۔احزاب میں۔اور عبس میں۔سورۂ شوریٰ میں آتا ہے وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ (شوریٰ:۱۸) سورۂ احزاب میں آتا ہے وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا (احزاب :۶۴) سورۂ عبس میں آتا ہے وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی(عبس:۴) اِن سب مقامات پر کسی وقوعہ کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔د وسرا فرق یہ ہے کہ جہاں بھی مَااَدْرَاکَ آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ