تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 427

نے کسی سوال کا جواب دیا ہےمثلاً مَاالْقَارِعَۃ کے بعد یہ بتایا ہے کہ قارعہ کیا چیز ہے۔مَاسَقَرَ کے بعد بتایا ہے کہ سقر کیا چیز ہے اور مَا یَوْمُ الْفَصْلِ یا مَا یَوْمُ الدِّیْن کے بعد بتایا ہے کہ یوم الفصل یا یوم الدین کیا چیز ہے گویا جہاں بھی مَااَدْرَاکَ آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی سوال کا جواب دیا ہے۔مثلاً (۱)سورۃالحاقہ میںمَا الْحَآقَّةُؕ کے بعد فرماتا ہے كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۔فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ۔وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ (آیت ۴ تا ۷)یعنی ثمود اور عاد قوموں نے موعود عذاب کو جھٹلایا۔سو اس کے بعد ثمود تو ایک بڑے زور کی کڑک کے صدمہ سے ہلاک کر دئے گئے۔اور رہے عاد سو وہ بھی ایک سخت آندھی سے ہلاک کر دئے گئے۔الغرض ان آیات میں اور بعد کی آیات میں فرعون اور پہلے معذّب لوگوں کا ذکر کر کے بتایا ہے کہ الحاقہ سے مراد وہ اٹل عذاب جن کو زبردست اقوام ساری کوششوں کے باوجود ٹلا نہیں سکتیں (۲)پھر سورۂ مدثّر میں مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ کے بعد اس کی تفسیر بھی کر دی کہ لَا تُبْقِيْ وَ لَا تَذَرُ۔لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ۔عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (المدثر:۲۹ تا ۳۱) یعنی سقر ایسی چیز ہے کہ نہ وہ باقی رکھتی ہے اور نہ جلائے بغیر چھوڑتی ہے اور آدمی کے تن بدن کو جُھلس دیتی ہے اس پر اُنیس فرشتے متعیّن ہیں (۳) سورۂ مرسلات میں فرمایا ہے کہ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ ا ور پھر اس کا لمبا جواب دیتے ہوئے فرمایا هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ۔وَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ۠۔وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۔هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِيْنَ (المرسلات:۳۶ تا ۳۹)یعنی یوم الفصل وہ دن ہو گا جب کہ گنہگار کوئی بات نہ کر سکیں گے اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ وہ کوئی عذر پیش کریں۔خوب یاد رکھو کہ عذاب کو جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہی تباہی ہے اُس دن ہم اُن سے کہیں گے کہ یہی تو وہ یوم الفصل ہے جس میں تم کو اور پہلے لوگوں کو فیصلے کے لئے ہم نے جمع کیا ہے (۴)پھر سورۂ انفطار میں وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِکہا اور اس کی تفسیر یوں کہہ دی کہيَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا (انفطار:۱۸ تا ۲۰) یعنی یوم الدین وہ دن ہے جس دن کوئی جان کسی جان کے کچھ کام نہ آسکے گی (۵)اسی طرح سورۂ تطفیف میں فرمایاوَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌا ور اس کا جواب دیا کہكِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ (تطفیف :۹ تا ۱۱) یعنی سجّین ایک اٹل حکم ہے (۶) پھر اسی سورۃ میں دوسری جگہ فرمایا وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّيُّوْنَ اور اس کی تفسیر یوں فرما دی کہ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠(تطفیف:۲۰ تا ۲۲) یعنی علّیّون ایک ایسا حکم ہے جو ضرور پورا ہو گا اور اس کو مقرب لوگ دیکھیں گے۔گویا سجّین وہ ہے کہ اُسے دیکھ کر کافر روئیں گے اور علّیّن وہ ہے کہ اس کو دیکھ کر مومن اُس کی طرف شوق سے جائیں گے۔(۷) پھر سورۂ طارق میں مَا الطَّارِقُ کہہ کر اس کا جواب دیا النَّجْمُ الثَّاقِبُ (الطارق:۳،۴) کہ طارق ایک روشن چمکنے والا ستارہ ہے (۸)پھر سورۂ بلد میں فرمایا مَاالْعَقَبَۃُ اور اس کا جواب یہ دیا