تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 425
بہت بڑے ماہر گزرے ہیں اور اخفش اور زجّاج نحو کے بہت بڑے ماہر گزرے ہیں لَفِیْ سِجِّیْنٍکے معنے لَفِیْ حَبْسٍ وَّضِیْقٍ شَدِیْدٍ کئے ہیں۔یعنی فجّار کی منزل حبس وضیق شدید میں ہو گی۔وہ کہتے ہیں لَفِیْ سِجِّیْنٍ اَیْ لَفِیْ مَکَانِ خَسَاسَۃٍ وَذِلَّۃٍ۔خساست اور ذلّت اُن کا مقام ہو گا۔(تفسیر القرطبی زیر آیت ھذا) اس صورت میں کِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ سجّین کی صفت ان معنوں میں ہو گی کہ یہ شدّت اور حبس کا مقام ایک کتابِ مرقوم میں ہے یعنی ایک لکھا ہوا فیصلہ ہے جو ٹل نہیں سکتا۔میرے نزدیک اس آیت کے جو صاف معنے ہیں وہ یہی ہیں کہ فجّار کا فیصلہ سجّین میں ہے جو ایک اٹل فیصلہ ہے یا یہ کہ سجّین ایک ایسا فیصلہ ہے جو کتاب مرقوم ہے یعنی اٹل ہے۔اِس آیت کے معنے اِس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ غیروں سے معاملات کرنے کے لحاظ سے ہی جس کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے۔عیسائی قوم خراب نہ ہو گی بلکہ اس قوم میں فسق وفجور بھی ہو گا کیونکہ نام تبھی رکھا جاتا ہے جب کسی چیز کی کثرت پائی جائےپس فجّار کہہ کر بتا یا کہ اس قوم میں صرف یہی عیب نہیں ہو گا کہ وہ دوسری اقوام سے بے انصافی کرے گی بلکہ اور بھی کئی قسم کے معائب اور فسق و فجور میں یہ مبتلا ہو گی۔اور اُن کے متعلق جو فیصلہ ہو گا وہ بڑا سخت اور لمبا ہو گا جس طرح ان کا معاملہ دوسری اقوام سے لمبا اور سخت تھا اور جس طرح ان کی فتح اور کامیابی لمبی ہو گی اسی طرح اُن کے ساتھ معاملہ بھی لمبا اور سخت کیا جائے گا۔سجین اور علیین کا صحیح مفہوم پھر میرے نزدیک اس آیت کے ایک اورمعنے بھی ہیں جس کی طرف پہلے کسی مفسر کا خیال نہیں گیا اور وہ یہ کہ قرآن کریم کے دو حصّے ہیں۔ایک حصّہ انذاری ہے اور ایک حصّہ تبشیری ہے کچھ حصہ میں تو دشمنانِ صداقت کی تباہیوں اور ان کی بربادیوں کا ذکر ہے اور کچھ حصہ میں مومنوں کی ترقیات اور اُن رحمتوں اور برکات کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے لئے مقدّر ہیں۔پس میرے نزدیک سجّین اور علّیّین قرآن کریم کے دو حصّوں کا نام رکھا گیا ہے۔علّیّین قرآن کریم کے وہ حصّے ہیں جن میں مومنوں کا ذکر ہے اور سجین قرآن کریم کے وہ حصے ہیں جن میں کافروں کا ذکر ہے۔اس لحاظ سےاِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍکے یہ نہایت ہی لطیف معنے ہوں گے کہ کس طرح ہو سکتا ہے یہ قوم تباہ نہ ہو۔ان لوگوں کی تباہی اور بربادی کا فیصلہ تو قرآن کریم کے اُن حصوں میں موجود ہے جن میں آئندہ زمانہ کی تباہیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اُن حصوں میں اس قوم کی تباہی اور بربادی کی خبریں دی جا چکی ہیں۔ضحاک کہتے ہیں کہ مَرْقُوْم کے معنے لغت حمیر میں مَخْتُوْمٌ کے ہیں اور یہ معنے اس مقام پر نہایت عمدگی سے چسپاں ہوتے ہیں کیونکہ کتابِ مختوم وہ ہے جو بدلتی نہیں جس کے فیصلے آخری اور قطعی ہوتے ہیں اور جن