تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 420

مختلف زبانوں میں غیر زبانوں کے الفاظ درحقیقت کوئی متمدن زبان ہو ہی نہیں سکتی جس میں آپس کے میل جول کی وجہ سے دوسری ز بانوں کے الفاظ داخل نہ ہو جائیں اور بعض دفعہ تو چسکا پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں زبان کا یہ لفظ ہم اپنی ز بان میں ضرور شامل کر لیں اور اس طرح رفتہ رفتہ وہ لفظ زبان میں شامل کر لیا جاتا ہے۔مثلاً انگریزی زبان میں پکّاؔ کا لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے حالانکہ یہ اُردو زبان کا لفظ ہے مگر آپس کے میل جول کی وجہ سے یہ لفظ انگریزوں کو ایسا پسند آیا کہ انہوں نے اسے اپنی زبان میں شامل کر لیا یہاں تک کہ انگریزی لغت کی کتابوں میں بھی پکا کا لفظ درج ہوتا ہے اور اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہوتا ہے کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے جو انگریزی زبان میں آگیا ہے۔اسی طرح بکواسؔ کا لفظ ہے جو انگریزوں کو پسند آگیا۔چنانچہ بہت سے انگریز جب دوسرے پر ناراض ہوتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں do not buckیعنی بکواس مت کرو۔یہ بک کا لفظ بھی اردو سے ہی انگریزی میں منتقل ہوا ہے۔اِسی طرح اور سینکڑوں الفاظ ہیں جو عربی یا اردو سے لے کر انگریزی زبان میں شامل کر لئے گئے ہیں مثلاًایڈمرل ADMIRAL کا لفظ انگریزی میں استعمال ہوتا ہے جو امیر البحر سے بگڑا ہوا ہے ایڈمرل امیر البحر کو کہا جاتا ہے انگریزوں نے الامیر کا لفظ رہنے دیا اور بحر کو چھوڑ دیا۔تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر زبان کے الفاظ دوسری زبانوں میں استعمال ہوتے رہتے ہیں مگراس وجہ سے ان الفاظ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس دوسری زبان کے لفظ ہی نہیں ہیں۔وہ کثرت استعمال کی وجہ سے دوسری زبان کا جزو بن جاتے ہیں اور اسی زبان کا لفظ سمجھے جاتے ہیں۔مثلًا اردو میں اگر متداول اور رائج العام لفظ انگریزی کا بولا جائے تو یہی کہیں گے کہ اس لفظ کا بولنے والا فصیح اردو بول رہا ہے یہ نہ کہیں گے کہ انگریزی الفاظ کی وجہ سے اس کی اردو خراب ہو گئی ہے۔ہاں کثرت سے اور غیر مروج الفاظ کا استعمال ہو تو وہ قابل اعتراض ہوتا ہے۔عربی زبان کے اُم الْا َلْسِنہ ہونے کی وجہ سے اس کے الفاظ کثرت سےغیر زبانوں میں پائے جاتے ہیں لیکن اس کے علاوہ آپس کے میل جول کی وجہ سے بھی ہر زبان میں دوسری زبان کے الفاظ آجاتے ہیں اور عربی زبان اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔اور اگر ایسا لفظ عربی زبان میں پایا جائے تو اس کا استعمال غیر فصیح نہ ہو گا نہ اس کلام کو جس میں وہ پایا جائے وہ غیر عربی بنا دے گا۔شیکسپیئر مشہور انگریز ادیب ہے اس کی کتب میں بھی بہت سے فرانسیسی زبان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں مگر اس کی وجہ سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شیکسپیئر کی کتب غیر فصیح انگریزی میں ہیں۔اسی طرح اگرقرآن کریم کسی غیر زبان کا لفظ لے آئے۔جو عربوں میں استعمال ہو چکا ہو اور عربوں نے اس کو پسند کر لیا ہو تو یہ بات اس لفظ کے عربی ہونے کے خلاف ہر گز نہیں ہو سکتی۔درحقیقت یہ مخالفت کا ایک مجنونانہ مظاہرہ ہے جس کے ماتحت بعض پرانے منافقین نے قرآن کریم پر اعتراض کیا۔اور جس کے ماتحت آجکل کے یورپین مستشرق بھی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس میں غیر زبانوں کے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں اور پھر وہ ایسے الفاظ کی ایک فہرست پیش کر دیتے ہیں۔ان میں سے بعض کے متعلق ہم یقیناً یہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ وہ عربی زبان کے الفاظ نہیں ہیں۔مثلاً توراتؔ کا لفظ عربی زبان کا نہیں اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں یا کون مسلمان کہتا ہے کہ جبریل عربی زبان کا لفظ ہے۔یہ لفظ اپنی موجودہ شکل میں عربی زبان کا لفظ نہیں۔اِسی طرح میکائیلؔ کا لفظ عربی زبان کا نہیں۔یا اِسحٰق کا لفظ ہے ہم کب اس کے غیر عربی ہونے سے انکار کرتے ہیں۔اسی طرح عیسیٰؔ کا لفظ ہے یہ بھی عربی زبان کا نہیں بلکہ جیسس JESIS کا بگڑا ہوا تلفظ ہے۔قرآن مجید میں غیر عربی الفاظ کے استعمال ہونے کی وجہ پس ہمیں اس سے ہر گز انکار نہیں ہے کہ قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔اور اگر وہ ایسے الفاظ کی تلاش میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ قرآن اور اسلام پر حملہ کر سکیں گے تو وہ اپنے وقت کو بالکل ضائع کرتے ہیں۔ہم اگر اُن کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں تو محض اس لئے کہ بعض الفاظ عربی زبان کے ہی ہوتے ہیں مگر وہ زبردستی ان کو غیر زبانوں کے الفاظ قرار دے دیتے ہیں۔اس وجہ سے انکار نہیں کرتے کہ قرآن مجید میں غیر زبان کا کوئی لفظ پایا ہی نہیں جا سکتا۔ہمیں اُن پر اگر شکوہ پیدا ہوتا ہے تو اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں یا حد سے زیادہ غلُوّ کرتے ہیں اور عربی الفاظ کے متعلق بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں کہ وہ غیر عربی الفاظ ہیں اُن کا یہ فعل ہمارے لئے باعثِ اعتراض ہوتا ہے ورنہ ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ بات ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے۔اس قسم کے الفاظ میں سے جن کو زبردستی غیرزبان کاقرار دیا جاتا ہے ایک سِجِّیْن کا لفظ بھی ہےہمارا دعویٰ ہے کہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے مگر وہ بلاوجہ اسے غیر زبان کا لفظ قرار دے دیتے ہیں یہ بات ہے جو وجہ اعتراض ہے ورنہ اگر ایک لفظ تو کیا اگر وہ پانچ سو لفظ بھی قرآن کریم میں سے ایسے نکال کر لے آئیں جو غیر زبانوں کے ہوں تو ہم کہیں گے کہ ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔جب عربوں نے ان الفاظ کو اپنی زبان میں شا مل کر لیا اور اُن کو انہوں نے کثرت سے استعمال کرنا شروع کر دیا تو اس کے بعد عربی میں ان الفاظ کا پایا جانا ہر گز قابلِ اعتراض امر نہیں ہو سکتا۔لوگ روزانہ سٹیشن پر جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ٹکٹ دو۔مگر کیا ٹکٹ ہماری زبان کا لفظ ہے؟ یا لوگ بازار میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں فونٹن پن دکھائو۔کیا فونٹن پن اُردو زبان کا لفظ ہے؟ مگر باوجود اس کے کہ یہ دونوں الفاظ ہماری زبان کے نہیں جب کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھے ٹکٹ دو یا فونٹن پن دکھائو تو سب لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ اردو زبان بول رہا ہے کوئی اور زبان نہیں بول رہا۔تو جو الفاظ زبان میںرائج ہو جاتے ہیں اُن کا استعمال کرنا ہرگز قابلِ اعتراض نہیں ہوتا۔اسی طرح جوالفاظ اصطلاحی ہوتے ہیں یا جو الفاظ کسی قوم پر حُجّت کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں ان کا بھی اصل صورت میں استعمال کرنا ہر گز قابل اعتراض امر نہیں ہوتا۔یا مثلاً اسماء کو اُن کی اصل زبان میں ہی بیان کر دینا قطعًا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو قابلِ اعتراض ہو۔اگر کسی شخص کا نام کرشنؔ چند ہو تو یہ نہیں ہو گا کہ دوسری زبان میں ہم کرشن چند کا ذکر کرتے وقت اس نام کا ترجمہ کرنے لگ جائیں بلکہ ایسی حالت میں ہم کرشن چند نام ہی لکھیں گے اور یہ پروا نہیں کریں گے کہ یہ کسی اور ز بان کا لفظ ہے اور ہم کسی اور زبان میں بات کر رہے ہیں پس یہ ایک غلط اور بے معنی اعتراض ہے جو قرآن کریم پر کیا جاتا ہے۔بالخصوص سِـجِّیْن کے متعلق ان کا اعتراض کرنا سراسر غلط ہے۔سِـجِّیْن عربی زبان کا لفظ ہے۔لُغت میں اس کے معنے موجود ہیں۔عربی زبان میں اس کے اور اشتقاق بھی استعمال ہوتے ہیں۔مجھے تحقیق کا موقع نہیں ملا ورنہ ممکن ہے اشتقاق کبیر میں بھی اس کا ثبوت مل جائے۔بہرحال سِـجِّیْنکو غیر زبان کا لفظ قرار دینا ہر گز درست نہیں ہے۔