تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 419

رہتے ہیں کہ قرآن کریم میںغیر زبانوں کے الفاظ پائے جاتے ہیں اور غیر زبانوں کے الفاظ کی وجہ سے وہ نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ قرآن کریم کے متعلق جو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ میں نازل کیا گیا ہے یہ غلط ہے حالانکہ اگر ان مفسرین کی بات کو جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا فلاں فلاں لفظ عربی نہیں تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی یہ اعتراض عقل کے بالکل خلاف ہے۔دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں غیر زبان کا کوئی لفظ نہ پایا جاتا ہو۔دو چار فقرے کہہ لینا اَور بات ہے، مگر متمدن زمانہ کی کوئی بڑی تحریر ایسی نہیں ہو سکتی جس میں غیر زبان کا کوئی لفظ نہ آئے۔بائبل میں بھی غیر زبانوں کے الفاظ موجود ہیں۔ویدوں پر بھی یہ اعتراض عائد ہوتا ہے کہ اس میں غیر زبانوں کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔صرف ایک شخص ایسا گزرا ہے جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں اپنی کتاب میں غیر زبان کے الفاظ استعمال نہیں کروں گا۔اور اس نے اپنے دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بڑا زور لگایا وہ بڑا بھاری ادیب تھا اور بڑا مشہور عالم تھا۔مگر وہ بھی اس دعویٰ میں پورا نہیں اترا اور اِسے بیسیوں غیر زبان کے الفاظ اپنی کتاب میںاستعمال کرنے پڑے۔میری مراد فردوسیؔ سے ہے اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مَیں پہلوی زبان میں شاہنامہ لکھوں گا۔مگر شاہنامہؔ میں بیسیوں الفاظ غیر زبانوں کے پائے جاتے ہیں۔بعض عربی کے ہیں بعض تازہ فارسی کے ہیں اور بعض دوسری زبانوں کے ہیں۔مختلف زبانوں میں غیر زبانوں کے الفاظ درحقیقت کوئی متمدن زبان ہو ہی نہیں سکتی جس میں آپس کے میل جول کی وجہ سے دوسری ز بانوں کے الفاظ داخل نہ ہو جائیں اور بعض دفعہ تو چسکا پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں زبان کا یہ لفظ ہم اپنی ز بان میں ضرور شامل کر لیں اور اس طرح رفتہ رفتہ وہ لفظ زبان میں شامل کر لیا جاتا ہے۔مثلاً انگریزی زبان میں پکّاؔ کا لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے حالانکہ یہ اُردو زبان کا لفظ ہے مگر آپس کے میل جول کی وجہ سے یہ لفظ انگریزوں کو ایسا پسند آیا کہ انہوں نے اسے اپنی زبان میں شامل کر لیا یہاں تک کہ انگریزی لغت کی کتابوں میں بھی پکا کا لفظ درج ہوتا ہے اور اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہوتا ہے کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے جو انگریزی زبان میں آگیا ہے۔اسی طرح بکواسؔ کا لفظ ہے جو انگریزوں کو پسند آگیا۔چنانچہ بہت سے انگریز جب دوسرے پر ناراض ہوتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں do not buckیعنی بکواس مت کرو۔یہ بک کا لفظ بھی اردو سے ہی انگریزی میں منتقل ہوا ہے۔اِسی طرح اور سینکڑوں الفاظ ہیں جو عربی یا اردو سے لے کر انگریزی زبان میں شامل کر لئے گئے ہیں مثلاًایڈمرل ADMIRAL کا لفظ انگریزی میں استعمال ہوتا ہے جو امیر البحر سے بگڑا ہوا ہے ایڈمرل امیر البحر کو کہا جاتا ہے انگریزوں نے الامیر کا لفظ رہنے دیا اور بحر کو چھوڑ دیا۔تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر زبان کے الفاظ دوسری