تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 421
کے الفاظ قرار دے دیتے ہیں۔اس وجہ سے انکار نہیں کرتے کہ قرآن مجید میں غیر زبان کا کوئی لفظ پایا ہی نہیں جا سکتا۔ہمیں اُن پر اگر شکوہ پیدا ہوتا ہے تو اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں یا حد سے زیادہ غلُوّ کرتے ہیں اور عربی الفاظ کے متعلق بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں کہ وہ غیر عربی الفاظ ہیں اُن کا یہ فعل ہمارے لئے باعثِ اعتراض ہوتا ہے ورنہ ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ بات ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے۔اس قسم کے الفاظ میں سے جن کو زبردستی غیرزبان کاقرار دیا جاتا ہے ایک سِجِّیْن کا لفظ بھی ہےہمارا دعویٰ ہے کہ یہ عربی زبان کا لفظ ہے مگر وہ بلاوجہ اسے غیر زبان کا لفظ قرار دے دیتے ہیں یہ بات ہے جو وجہ اعتراض ہے ورنہ اگر ایک لفظ تو کیا اگر وہ پانچ سو لفظ بھی قرآن کریم میں سے ایسے نکال کر لے آئیں جو غیر زبانوں کے ہوں تو ہم کہیں گے کہ ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔جب عربوں نے ان الفاظ کو اپنی زبان میں شا مل کر لیا اور اُن کو انہوں نے کثرت سے استعمال کرنا شروع کر دیا تو اس کے بعد عربی میں ان الفاظ کا پایا جانا ہر گز قابلِ اعتراض امر نہیں ہو سکتا۔لوگ روزانہ سٹیشن پر جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ٹکٹ دو۔مگر کیا ٹکٹ ہماری زبان کا لفظ ہے؟ یا لوگ بازار میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں فونٹن پن دکھائو۔کیا فونٹن پن اُردو زبان کا لفظ ہے؟ مگر باوجود اس کے کہ یہ دونوں الفاظ ہماری زبان کے نہیں جب کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھے ٹکٹ دو یا فونٹن پن دکھائو تو سب لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ اردو زبان بول رہا ہے کوئی اور زبان نہیں بول رہا۔تو جو الفاظ زبان میںرائج ہو جاتے ہیں اُن کا استعمال کرنا ہرگز قابلِ اعتراض نہیں ہوتا۔اسی طرح جوالفاظ اصطلاحی ہوتے ہیں یا جو الفاظ کسی قوم پر حُجّت کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں ان کا بھی اصل صورت میں استعمال کرنا ہر گز قابل اعتراض امر نہیں ہوتا۔یا مثلاً اسماء کو اُن کی اصل زبان میں ہی بیان کر دینا قطعًا کوئی ایسا امر نہیں ہے جو قابلِ اعتراض ہو۔اگر کسی شخص کا نام کرشنؔ چند ہو تو یہ نہیں ہو گا کہ دوسری زبان میں ہم کرشن چند کا ذکر کرتے وقت اس نام کا ترجمہ کرنے لگ جائیں بلکہ ایسی حالت میں ہم کرشن چند نام ہی لکھیں گے اور یہ پروا نہیں کریں گے کہ یہ کسی اور ز بان کا لفظ ہے اور ہم کسی اور زبان میں بات کر رہے ہیں پس یہ ایک غلط اور بے معنی اعتراض ہے جو قرآن کریم پر کیا جاتا ہے۔بالخصوص سِـجِّیْن کے متعلق ان کا اعتراض کرنا سراسر غلط ہے۔سِـجِّیْن عربی زبان کا لفظ ہے۔لُغت میں اس کے معنے موجود ہیں۔عربی زبان میں اس کے اور اشتقاق بھی استعمال ہوتے ہیں۔مجھے تحقیق کا موقع نہیں ملا ورنہ ممکن ہے اشتقاق کبیر میں بھی اس کا ثبوت مل جائے۔بہرحال سِـجِّیْنکو غیر زبان کا لفظ قرار دینا ہر گز درست نہیں ہے۔