تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 38
الْاَرْضَ ہر وہ باغ جس میں درخت ہوں اور وہ درختوں کے ذریعے اپنی زمین کو ڈھانپ لے (مفردات ) اَلْفَافًا: اَلْفَافٌ لِفٌّ کی جمع ہے اور اَلِلّفُ کے معنے ہیں اَلصِّنْفُ مِنَ النَّاسِ مختلف طرز کے لوگوں میں سے ایک طرز کے لوگ۔چنانچہ کہتے ہیںعِنْدَہٗ اَلْفَافٌ مِنَ النَّاسِکہ اس کے پاس مختلف اصناف کے لوگ بیٹھے ہیںنیز اَللِّفُّ کے معنے ہیں اَلرَّوْضَۃُ الْمُلْتَفَّۃُ النَّبَاتِ وہ باغیچہ جس کی نباتات کثیر ہونے کی وجہ سے آپس میں لپٹی ہو ئی ہو وَالبُسْتَانُ الْمُجْتَمَعُ الشَّجَرِ اور ایسے باغ کو بھی لِفّ کہتے ہیںجو گھنے درختوں والا ہو۔(اقرب) پس جَنَّاتٍ اَلْفَافًا کے معنے ہوں گے ایسے گھنے باغات جو کثرت اشجار کی وجہ سے آپس میں لپٹے ہوئے ہوں۔تفسیر۔پانی جب آسمان سے اُترتا ہے تو اس کے بعد لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا۔وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا کا وقت آجاتا ہے یعنی اُس بارش کے نتائج پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور زمین سے دانے نکلتے ہیں۔سبزیاں نکلتی ہیں۔قسم قسم کی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں اور ایسے باغات نکلتے ہیں جو بڑے گھنے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب سورج نکلتا ہے تو تم جانتے ہو اُس کا ظاہری نتیجہ کیاپیدا ہوتا ہے۔ظاہری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سورج زمین تیار کرتا ہے اور اپنی روشنی کی شعائیں وہاں تک پہنچاتا ہے اور پھر اپنی گرمی کے ذریعہ زمین کا پانی کھینچ کر اوپر لے جاتا ہے گویا ایک چیز سورج دے جاتا ہے اور ایک چیز سورج لے جاتا ہے پھر جو چیز لے جاتا ہے اُسے بادلوں کی صورت میں پھر زمین کی طرف واپس کر دیتا ہے اور اس طرح سورج لوگوں کے لئے رحمت اور برکت کا سامان پیدا کر دیتا ہے چنانچہ بارش سے بڑے بڑے باغ نکلتے ہیں۔سبزیاں نکلتی ہیں۔کھیتی باڑی ہوتی ہے اور انسانی زندگی کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب مہیّا ہو جاتی ہیں۔اتنا بڑا کارخانہ جو خدا نے بنایا ہے کہ کروڑوں کروڑ میل پر ایک سورج بنایا ہے۔کروڑوں کروڑ میل پر ایک زمین ہے۔زمین میں یہ قابلیت رکھی گئی ہے کہ وہ سورج کی شعائوں کو اپنے اندر جذب کرے اور سورج میں یہ قابلیت رکھی گئی ہے کہ اُس کی گرمی پانی کو اُٹھا کر اوپر لے جائے۔پھر ہوائیں چلتی ہیں جو بادلوں کو زمین پر برسا دیتی ہیں اور زمین میں سے کھیت اُگتے ہیں غلّہ پیدا ہوتا ہے۔باغات تیا ر ہوتے ہیں۔پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک ایک چیز انسان کے کام آتی ہے۔ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے فوائد دیرپا نہیں ہوتے اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے فوائد دیرپا ہوتے ہیں مثلاً غلّہ ہے اِدھر غلہ پیدا ہوتا ہے اور اُدھر انسان اس کو استعمال کر نا شروع کردیتا ہے۔دوسرے سال پھر غلہ بوتا ہے اور پھر استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو بار بار بونے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے پھلدار بوٹیاں ہیں یعنی جانوروں کے کھانے کی جھاڑیاں ہیں اُن کے پھلوںسے انسان زیادہ دیر تک فائدہ اُٹھاتا ہے اور جانور کئی سال تک اپنی