تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 39

خوراک حاصل کرتے ہیں۔اور پھر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس سے بھی زیادہ عرصہ تک کام آتی ہیں مثلاًباغات ہیں کہ وہ بعض دفعہ سو سو دو دوسو تین تین سو سال تک کام دیتے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے تم غور کرو اور سوچو کہ کیایہ سارا سلسلہ لغو اور فضول ہے۔اگر تم سوچو تو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ کارخانۂ عالم کی پیدائش لغو اور فضول نہیں ہو سکتی بلکہ کوئی نہ کوئی اہم غرض ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تمام سلسلہ جاری فرمایا ہے اور کوئی نہ کوئی مقصد ہے جس کو پورا کرنے کے لئے اس قدر وسیع کارخانہ کام کر رہا ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسان کی پیدائش بالکل عبث ہے اور وہ کسی خاص مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔اور اگر ہم ان آیات کوروحانی معنوں میں لیں تو اس کے معنے یہ بن جائیں گے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآن کریم دونوں سِرَاج وَھَّاج ہیں اُن کی گرمی تپش اور تیز روشنی آج تمہیں بُری لگتی ہے مگر ایک دن یہی گرمی اور تپش اور روشنی تمہارے دل کے چھپے ہوئے گند دور کرنے کے لئے بادلوں اور روشنی کا کام دے گی۔سورج آخر کیا کرتا ہے یہی کہ وہ گندے پانی کو بخارات کی صورت میں اُڑاتا اور پھر ایک مصفّٰی پانی کی صورت میںاُسے زمین کی طرف لوٹا دیتا ہے اور اُس کی روشنی قسم قسم کے زہروں کو مارتی اور نئی طاقتیں بخشتی ہے۔اسی طرح تمہارے پاس جو کلام الٰہی کا پانی پہلے سے موجود ہے وہ ایسا ہے جو گدلا ہو چکا ہے جس کا استعمال تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔بے شک تمہارے پاس ابراہیمؑ کی تعلیم بھی موجود ہے۔تمہارے پاس موسیٰ ؑ کی تعلیم بھی موجود ہے۔تمہارے پاس عیسیٰ ؑ کی تعلیم بھی موجود ہے۔تمہارے پاس اور انبیاء کی تعلیم بھی موجود ہے مگر اُن سب تعلیموں کا پانی گدلا ہو چکا ہے۔اب یہ سِرَاج وَھَّاج جس کی گرمی اور تپش اور تیز روشنی تمہیں بُری معلوم ہوتی ہے اُن چھپڑوں پرسے بخارات اُٹھائے گا اور پھر اُن بخارات کو بادلوں کی صورت میں تمہارے دلوں پر برسائے گا جس سے تمہارے دلوں کے سوتے پھوٹ نکلیں گے اور وہ ساری دنیا کو سیراب کر دیں گے اسی طرح اُس کی روشنی تمہارے دلوں کی تاریکیوں کو پھاڑ کر نورِ بصیرت تم کو بخشے گی۔گویا کلام الٰہی کا وہ پانی جس کو آج تم ردّ کر رہے ہو ایک دن تمہارے دلوں سے خود بخود پھوٹنے لگے گا اورمَآءً ثَجَّاجًا بن کر ایک عالم کو سیراب کر دے گاپھر اس کے ذریعہ سے تمہارے دلوں میں سےاناج بھی نکلیں گے بوٹیاں بھی نکلیں گی اور باغات بھی نکلیں گے۔گویا تمہیں کچھ ایسے فوائد حاصل ہوں گے جو قریب کے ہوں گے اور کچھ ایسے فوائد حاصل ہوں گے جو بعید کے ہوں گے یا کچھ ایسے علوم تم سے ظاہر ہوں گے جو عارف لوگوں کے کام آئیں گے جیسے علمِ تصوّف ہے یا علمِ قرآن ہے اور کچھ ایسے علوم ظاہر ہوں گے جو عوام الناس کے کام آئیں گے جیسے سائنس ہے یا جغرافیہ ہے یا حساب ہے یا ہندسہ ہے۔وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا اور ایسے باغ بھی نکلیں گے جو مدتوں تک کام دیں گے جیسے علمِ تحریر میں