تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 37

قلب ایک تنور کی شکل میں دکھایا گیا اور مجھے یہ نظارہ نظر آیا کہ اُس تنور میں سے اللہ تعالیٰ کے عرفان کا پانی پُھوٹنا شروع ہوا اور وہ دنیا کے کناروں تک پھیل گیا۔میں نے جب اُس پانی کو پھیلتے دیکھا تو اُس وقت مَیں نے کہا یہ پانی پھیلے گا اور پھیلتا چلا جائے گا یہاں تک کہ دنیا کا ایک انچ بھی ایسا باقی نہ رہے گا جہاںخدا کے عرفان کا یہ پانی نہ پہنچے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمایا ہے کہ وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا۔اس شمس روحانی کی گرمی سے تمہارے دل کی زمینیں تیار ہوں گی پھر اسی گرمی کے نتیجہ میں وہاں سے ایسے بخارات اٹھنے شروع ہوں گے جو بادلوں کی صورت اختیار کر لیں گے اور پھر وہی بادل تمہارے دلوں کی زمین پر برسیں گے اور اُن کا پانی ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ۰۰۱۶وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ۰۰۱۷ تا کہ اس کے ذریعہ سے ہم دانے اور سبزیاں نکالیں۔اور گھنے باغ (اُگائیں)۔حل لغات۔حَبًّا: اَلْحَبُّ وَالْحَبَّۃُ یُقَالُ فِیْ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ وَنَحْرِھِمَا مِنَ الْمَطْعُوْمَاتِ یعنی گندم اور جَو اور ایسے ہی وہ تمام غلّہ جات اور اناج جن سے خوراک کاکام لیا جاتا ہے اُن کے دانوں کو حبّ کہتے ہیں۔(مفردات) لسانؔ میں ہے۔اَلْحَبُّ: اَلزَّرْعُ صَغِیْراً کَانَ اَوْکَبِیْرًا یعنی حبّ نباتاتی پیداوار کو کہتے ہیںخواہ چھوٹی ہو یا بڑی۔نَبَاتًا: اَلنَّبْتُ وَالنَّبَاتُ مَا یَخْرُجُ مِنَ الْاَرْضِ مِنَ النَّامِیَاتِ سَوَائً کَانَ لَہٗ سَاقٌ کَالشَّجَرِ اَوْلَمْ یَکُنْ لَہٗ سَاقٌ کَالنَّجْمِ لٰکِنِ اخْتَصَّ فِیْ التَّعَارُفِ مِمَّا لَاسَاقَ لَہٗ بَلْ قَدِ اخْتَصَّ عِنْدَ الْعَامَّۃِ بِمَا یَاْکُلُہٗ الْحَیَوَانُ (مفردات) یعنی نبات زمین سے پیدا ہو کر بڑھنے والی ہر چیز پر بولتے ہیں خواہ وہ درختوں کی قسم سے ہو یا چھوٹی چھوٹی بوٹیوں کی قسم سے لیکن عرف عام میں نبات صرف اس کو کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہو یعنی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں ہوں۔بلکہ عوام کے نزدیک صرف اُس کو نبات کہتے ہیں جس کو حیوان کھاتے ہیں۔گویا حَبٌّ انسانوں کی خوراک ہوئی اور نبات حیوانوںکی خوراک۔جَنَّاتٌ: جنَّاتٌ جَنَّۃٌ کی جمع ہے اور اَلْجَنَّۃُ کے معنے ہیں کُلُّ بُسْتَانٍ ذِیْ شجَرٍ یَسْتُرُ بِاَشْجَارِہِ