تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 403

ہو رہا ہے اور عیسائیوں کے اعمال کے دو حصّے بڑے خطرناک ہیں۔وہ حصہ بھی جو مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ حصہ بھی جو غیر اقوام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مذہبی نقطۂ نگاہ سے اُن کے اعمال کی بُرائی اس سے ظاہر ہے کہ وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں مسیح ناصریؑ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو مٹا رہے ہیں۔اسی کی طرف پہلی سورۃ میں اشارہ کیا گیا تھا کہ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ یعنی ہم نے جو کہا تھا کہ اِن لوگوں کے شرک سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے وہ وقت آگیا ہے اور انہوں نے اس قدر شرک سے کام لیا ہے کہ آسمان واقعہ میں پھٹ گیا ہے۔پس اُن کے اعمال کا ایک حصّہ تو یہ ہے۔دوسرا حصّہ اُن کے اعمال کا آپس کی جتھہ بندی اور باقی تمام غیر قوموں سے انتہائی بد سلوکی سے پیش آنا ہے۔پس پہلی سورۃ میں عیسائیوں کی مذہبی بُرائی بتانے کے بعد اس سورۃ میں یہ بیان کرتا ہے کہ اُن کا معاملہ دوسری اقوام سے بہت بُرا ہو گا۔وہ اُن کو لوٹیں گے۔اُن کے معاہدات اور معاملات ہمیشہ دو رُخے ہوں گے۔آپس میں اُن کا اور سلوک ہو گا اور دوسری اقوام سے اُن کا اور سلوک ہو گا۔غرض تطفیف عیسائیت کا ایک نہایت ہی نمایاں پہلو ہے۔اِن سے پہلے تاریخ میں قوموں کی جتھہ بندی کی اور کوئی مثال ایسی نہیں ملتی جیسی یوروپین اقوام میں دکھائی دیتی ہے۔یہ لوگ دہریہ ہیں۔عقائد کے اعتبار سے ان کا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں لیکن جہاں عیسائیت کا سوال آجائے وہاں یہ ضرور اس کا لحاظ کر جائیں گے۔اور دہریہ ہوتے ہوئے بھی عیسائیت کی رعایت کریں گے۔جرمن ہیں وہ بھی دہریہ ہیں مگر عیسائیوں سے اُن کا معاملہ اَور رنگ کا ہو گا۔اور دوسری اقوام سے اَور رنگ کا ہو گا۔وہ یہودیوں پر سخت سے سخت ظلم کریں گے مگر عیسائیوں کا سوال آ جائے تو اُن سے نرمی کا برتائو کریں گے۔یہی حال انگریزوں اور امریکن باشندوں کا ہے اُن کے اندر کوئی مذہب نہیں لیکن عیسائیت کے نام کا مٹنا وہ برداشت نہیں کر سکتے۔اب لڑائی ہو رہی ہے مسلمانوں اور ہندئووں کو وہ اس جنگ میں کٹوا رہے ہیں مگر کہہ یہ رہے ہیں کہ ہم کرسچن سویلزیشن قائم کریں گے حالانکہ کرسچن سویلزیشن کا کوئی مفہوم نہیں سوائے زمانہ حاضرہ کی تہذیب کے اور عیسائیت سےاس کادُور کا بھی تعلق نہیں۔مگر وہ کہتے یہی ہیں کہ ہم عیسائی تہذیب دنیا میں قائم کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔پھر یہ عجیب معاملہ ہے کہ عیسائی قومیں آپس میں بھی ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہیں مگر اس ظلم کا دائرہ محدود ہوتا ہے گویا انہوں نے ظلم کے دو دائرے بنا لئے ہیں۔ایک ظلم عیسائیت پر اور ایک ظلم غیر عیسائیت پر۔جب غیر پر ظلم ہو تو تمام عیسائی قومیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور آپس کے تعلقات کو بھلا دیتی ہیں پس یہ لوگ دو ظلم کر رہے ہیں ایک خدا پر ظلم ہے اور ایک اس کی مخلوق پر ظلم ہے۔چونکہ مخلوق پر ظلم عیسائیوں کے اعمال کا دوسرا حصہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے