تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 402

لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ گویا وہاں ایک محاسبے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اور بتایا تھا کہ تمہیں یہ گھاٹا اپنے پاس سے پورا کرنا پڑے گا دوسرا کوئی شخص اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔پس چونکہ وہاں محاسبے کا ذکر تھا اس لئے وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ۔میں اللہ تعالیٰ نے ادھر اشارہ فرما دیا کہ جس نے حساب دینا ہو اس کو اپنا حساب بالکل صاف رکھنا چاہیے۔یہی بات ہے جو حضرت مسیح ناصری ؑ نے کہی مگر مسیحیوں کی نظر سے پوشیدہ ہو گئی۔حضرت مسیح ؑ نے کہا ’’مبارک وے جو رحم دل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کیا جائے گا‘‘ (متی باب ۵ آیت ۷) اسی طرح ایک دوسری جگہ ان کی بات بیان کی گئی ہے۔لکھا ہے ’’اگر تم آدمیوں کے گناہ بخشو گے تو تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہیں بخشے گا پر اگر تم آدمیوں کو اُن کے گناہ نہ بخشو گے تو تمہارا باپ بھی تمہارے گناہ نہ بخشے گا‘‘ (متی باب ۶ آیت ۱۴،۱۵) اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان فرماتا ہے کہ تم نے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اگر تم وہاں گھاٹے سے بچنا چاہتے ہو تو بندوں کو بھی کسی قسم کا گھاٹا نہ دو۔عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیوں کو جو کچھ تعلیم دی گئی تھی اس کے بالکل اُلٹ انہوں نے نتیجہ نکال لیا یعنی اُنہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم تو رحم کر سکتے ہیں لیکن خدا رحم نہیں کر سکتا حالانکہ خدا ہمارے رحم کو اپنے رحم کی وجہ قرار دیتا ہے اور حضرت مسیح ؑ بھی یہی فرماتے ہیں کہ تم لوگوں پر رحم کرو تا آسمانی باپ تم پر رحم کرے۔گویاہمیں رحم کرنے کی اس لئے ضرورت ہے تاکہ خدا ہم پر رحم کرے مگر دوسری طرف عیسائیت یہ کہتی ہے کہ تم تورحم کر سکتے ہو لیکن خدا رحم نہیں کر سکتا۔یہ کتنی متضاد تعلیم ہے جو عیسائیت میں پائی جاتی ہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ نرمی اور محبت کا سلوک کرے تو تم بھی اس کے بندوں کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آئو۔يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ میں خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کے معاملے کا ذکر کیا گیا ہے اوروَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِيْنَ۔میں بنی نوع انسان کے باہمی معاملات کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تم لوگوں کے ساتھ ٹھیک ٹھیک معاملہ کیا کرو تا کہ خدا تمہارے ساتھ نیک سلوک کرے۔گویا سورۂ انفطار کا آخری حصہ حضرت مسیح ناصریؑ کے ایک قول کی تائید کرتا ہے اور اس سورۃ کا پہلا حصّہ حضرت مسیح ناصریؑ کے دوسرے قول کی تائید کرتا ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورتوں سے تعلق بلحاظ مضمون ترتیبِ بعید یہ ہے کہ گزشتہ دو سورتوں سے عیسائیت کا ذکر