تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 401
میں سے کسی کو توفیق دے یا خود مجھے ہی توفیق دے دے تو اس کے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھا جانا ضروری ہے درحقیقت امام سیوطی نے جو اتقان کتاب لکھی تھی وہ اس سلسلہ کی پہلی کوشش تھی جس میں اُن سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔اب ضرورت ہے کہ ایک حقیقی اتقان لکھی جائے کیونکہ اتقان کے معنے ہیں مضبوط اور پکّی باتیں۔لیکن غلطی سے اُس میں کچھ کچی باتیں بھی آ گئی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں ایک اتقان کتاب لکھی جائے جس میں صحیح اصول پر اس مسئلہ کو بیان کیا جائے اور غلط باتوں کی تردید کی جائے۔ترتیب۔پہلی سورۃ سے سورۃ التطفیف کے دو تعلق پہلی سورۃ سے اس سورۃ کے دو تعلق ہیںایک قریب کا اور ایک بعید کا۔یعنی ایک تو قریب مضمون سے اس کا تعلق ہے اور ایک سلسلۂ کلام سے اس کا تعلق ہے۔میرا تجربہ یہی ہے کہ قریبًا ہر سورۃ کا دوسری سورۃ سے تعلق ہوتا ہے اور پھر میرے علم کے مطابق ہر سورۃ کا دوسری سورۃ سے ایک تعلقِ قریب ہوتا ہے اور ایک تعلقِ بعید ہوتا ہے یعنی ایک تعلق تو ایسا ہوتا ہے جو اسے پہلی سورۃ کی آخری آیتوں سے ملا دیتا ہے لیکن ایک تعلق ایسا ہوتا ہے جو سلسلۂ مضمون سے متعلق ہوتا ہے پھر آگے یہ تعلق دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک تعلق تو سورۃ کا قریب کی سورۃ یا اس کے ساتھ کی سورۃ سے ہوتا ہے اور مضمون میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے اور ایک تعلق ایسا ہوتا ہے جو چھ چھ سات سات بلکہ دس دس سورتیں پیچھے جا کر اس سورۃ کو پچھلی سورتوں سے ملا دیتا ہے یہ بھی ایک ایسا مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک حد تک میں نے سمجھا ہے۔سورتوں کے آپس کے قریب کے تعلقات اور تسلسل مضمون کے اعتبار سے اُن کے آپس کے تعلقات بالعموم میں نے اخذ کئے ہیں لیکن مجھ پر اثر یہ ہے کہ سورتوں کا ایک تعلق بعید یا ابعد بھی ہوتا ہے۔مجھے اس کے متعلق ایسی فرصت نہیں ملی کہ اس مضمون کو مکمل طور پر حل کر سکوں۔چونکہ میرے پاس پہلے ہی کاموںکی کثرت ہے اور اس کے لئے فرصت نکالنا بہت مشکل ہے اِس لئے میںاس مضمون کو حل کرنے کی ایک تجویز بتادیتا ہوں۔سورتوں کے آپس میں تعلقات کو سمجھنے کا ایک طریق میری رائے یہ ہے کہ قرآن کریم کی سورتیں الگ الگ خوشخط لکھوا کر اُن کے چارٹ بنوائے جائیں اور پھر اُن الگ الگ ٹکڑوں کو انسان ایک کمرے میں لٹکا دے اور فرصت کے وقت اُن کو دیکھتا رہے۔اس کے نتیجہ میں اُسے سورتوں کے باہمی تعلقات کا ضرور نشان مل جائے گا جب ایک چارٹ حل ہو جائے تو دوسرے پر غور کرنا شروع کر دے۔دوسرا حل ہو جائے تو تیسرے کو مدنظر رکھ لے۔جس شخص کو فرصت ہو اور قرآن کریم پر غور کرنے کا وہ شوق رکھتا ہو اگر وہ ایسا کرے تو اس کو بہت کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے قریب کا تعلق تو یہ ہے کہ سورۂ انفطار کے آخر میں فرمایا تھا يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ