تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 400

مکی ہے یا مدنی۔پانچویں تفصیلی مسائل کی بناء پر مستشرقین سورتوں کو مدنی قرار دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک تفصیلی مسائل مدنی سورتوں میں ہوتے ہیں۔چھٹے طرز کلام کی بناء پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔مثلاً لمبی آیتیں ہوں تو مستشرقین اُن کو مدنی اور چھوٹی آیات ہوں تو مکی قرار دیتے ہیں۔ساتویںیہود کا ذکر آجائے تو مستشرقین کہہ دیتے ہیں کہ یہ مدنی سورۃ ہے۔آٹھویںاگر کفار کے خلاف کوئی سخت حکم آجائے تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ مدنی ہے۔ان دلیلوں میں سے صرف پہلی دلیل یقینی ہے۔باقی صرف ظنی ہیں اور انہیں مستشرقین اسلام کے خلاف حربہ کے طور پر استعمال کرنے سے کبھی نہیں چُوکتے۔اور بعض دلائل ان میں سے قطعًا غلط بھی ہیں مگر یہ موقعہ ان پر بحث کا نہیں ہے۔خود مستشرقین کا اپنا طریق عمل ان دلائل کے خلاف پڑتا ہے کیونکہ بعض دفعہ وہ خود (جب اُن کا مطلب اس طرح پورا ہوتا ہو) ان دلائل کے خلاف رائے دے جاتے ہیں جیسا کہ مختلف مقامات پر اس کی طرف تفسیر میں اشارہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔درحقیقت مستشرقین بعض دلائل سے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں اور یہودیوں سے مل کرسیکھی تھی۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مکی سورتوں میں عیسائیوں اور یہودیوں کی تعلیمات کا کوئی تفصیلی ذکر نہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ مدنی سورتوں میں اِن کا اس لئے ذکر ہے کہ آپ نے مدینہ میں غیروں سے مل کر ان باتوں کو سیکھ لیا۔جو مسلمان مفسرین ان امور میں کمزور دلائل کی بناء پر رائے قائم کرتے ہیں۔وہ نا دانستہ طور پر عیسائیت کو تقویت پہنچا دیتے ہیں حالانکہ یہ اصول بالکل قیاسی ہیںاور تاریخی مسئلہ کو قیاس سے طے کرنا غلط طریق عمل ہوتا ہے صرف قطعی تاریخی شہادت یا داخلی قیاس ہی ایسے موقعہ پر صحیح ہوتے ہیں اور وہ بھی اُس صورت میں جبکہ خود قرآن کا دوسرا مضمون اُن کی تائید کرتا ہو۔یہ مضمون بہت لمبا ہے جس کو اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا۔سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے متعلق صحیح رسالہ لکھے جانے کی ضرورت ضمنًا میں نے اس طرف توجہ دلا دی ہے ورنہ یہ مضمون تقاضا کرتا ہے کہ اس پر ایک مستقل رسالہ لکھا جائے۔سورتوں کے مکّی یا مدنی ہونے کے متعلق جہاں تک روایاتِ صحیحہ کا تعلق ہے یا تاریخی تحقیق کا تعلق ہے ان کو ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن جو حصہ قیاس سے تعلق رکھتا ہے اس میں بعض غلط اصول قرار دےدیئے گئے ہیں جن کی وجہ سے غلط نتائج پیدا ہوتے ہیں اور اُن غلط نتائج سے دشمنانِ اسلام ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں تسلیم کرنے کو ہم تیار نہیں۔بہرحال یہ مضمون ایک مستقل رسالہ کا طالب ہے تا کہ تفصیلی طور پر بحث کر کے یہ بتایا جائے کہ قرآن کریم کی ترتیب کے متعلق جو استدلال کئے جاتے ہیں اُن میں کیا کچھ غلطیاں ہیں اور کن بنیادوں پر ان نقائص کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت